Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
55 - 324
کام نہ لینا،حواس باختہ ہونا،خوف زدہ ہونا۔خَرَقَ الشیءَ (ن، ض)خَرْقًا: پھاڑنا،سوراخ کرنا۔
6۔۔۔۔۔۔

     وَلٰکِنْ عَرَتْنِیْ مِنْ ھَوَاکِ صَبَابَۃٌ          کَمَا کُنْتُ اَلْقٰی مِنْکِ اِذْ اَناَ مُطْلَق،
ترجمہ: 

    لیکن مجھے تیری محبت کی وجہ سے عشق کی بیماری لاحق ہوگئی ہے جس طرح میں آزادی کی حالت میں تیری طرف سے مصیبتیں برداشت کرتا تھا۔

حل لغات:
     عَرَتْ:عَرَاہُ الدَّاءُ(ن)عَرْوًا:
بیماری لاحق ہونا،اچانک کوئی تکلیف ہوجانا۔ فلانًا امرٌ:پیش آنا،سامنے آنا،طاری ہونا،لاحق ہونا۔ صبابۃ:سوزش عشق،سخت محبت۔
مُطْلَق:مفع(افعال)اَطْلَقَ الشیئَ:
آزاد کرنا۔
وَقَالَ اَبُوْ عَطَاءالسِّنْدِیْ (الطویل)
شاعر کاتعارف:
    شاعر کانام:ابو عطاء افلح بن یسار سندھی ہے (متوفی180ھ /796ء )اور یہ غبر بن سماک بن حصین کے آزاد کردہ غلام ہیں، ان کے والد سند ھی عجمی تھے،اور یہ بنو امیہ وبنو عباس کے دور کے مخضر می اسلامی شاعر ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔

     ذَکَرْتُکِ وَالْخَطِّیُّ یَخْطِرُ بَیْنَنَا             وَقَدْ نَھِلَتْ مِنَّا الْمُثَقَّفَۃُ السُّمْر،
ترجمہ: 

    اے محبوبہ میں نے تجھے اس حا ل میں بھی یاد کیا کہ خطی نیزے ہمارے درمیان حرکت کر رہے تھے اور تحقیق سید ھے کئے ہوئے گندمی نیزوں نے پہلی بار ہماراخون پی لیا۔

مطلب :

    شاعراپنی محبوبہ کوبتانا چاہتاہے کہ تو مجھے اپنی جان سے ز یادہ پیاری ہے ؛ کیونکہ گھمسان کی لڑائی میں جب نیزے ہمیں زخمی کر رہے تھے اور موت ہمارے سروں پر رقص کر رہی تھی تو اس وقت بھی میں تجھے نہیں بھولا۔ اگرچہ شاعر اپنے عشق و جنون کو بیان کر رہا ہے لیکن یہ انتہائی جرأت وبہادری ہے کہ سخت جنگ میں جب اپنی موت نظر آرہی ہو اور انسان کے ہوش و حواس سالم وقائم ہوں اوراپنی جان کے علاوہ کسی اور کابھی خیال ہو۔اسی مناسبت سے یہ اشعار باب الحماسہ میں ذکر کئے گئے ہیں ۔
Flag Counter