(بَلْ إِیَّاہُ تَدْعُونَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَیْہِ إِنْ شَاء وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِکُونَ) (6/41)
الغماء:زمانہ کی آفت، مصبت، پریشانی۔حُرَّۃٌ:حُرٌّ کی مؤنث:آزاد عورت،شریف عورت،بیوہ۔یہاں مراد صابرہ عورت ہے؛کیونکہ عرب کا گمان تھاکہ آزادعورت جو مصیبتیں اورتکالیف برداشت کر سکتی ہے وہ لونڈی نہیں کرسکتی۔ج:حَرائر۔ حُرَّات۔
(یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ)(2/ 178)
(کَأَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَہَا لَمْ یَلْبَثُوا إِلَّا عَشِیَّۃً أَوْ ضُحَاہَا)(79/46)
ادراک کرنا،رائے رکھنا ،اعتقاد وگمان کرنا،مناسب سمجھنا،تدبیر کرنا۔
غمرات:غَمْرَۃُ الشَّیْئِ:
یَزُورُ:زَارَہ،(ن)زِیَارَۃً:
کسی سے ملنے کے لئے آنایاجانا،ملاقات کرنا۔
فائدہ:
زیارت اوررؤیت میں فرق یہ ہے کہ رؤیت عام ہے یعنی مطلقاً دیکھنے کے لئے آتاہے چاہے قریب سے دیکھاجائے یا دورسے، جبکہ زیارت قریب سے دیکھنے کوکہتے ہیں۔
2۔۔۔۔۔۔
نُقَاسِمُھُمْ اَسْیَافَنَا شَرَّ قِسْمَۃٍ فَفِیْنَا غَوَاشِیْھَا وَفِیْھِمْ صُدُوْرُھَا
ترجمہ:
ہم دشمنوں میں اپنی تلواریں بری طرح تقسیم کرتے ہیں ،اس طرح کہ ہمارے پاس ان کے دستے اور دشمنوں میں ان کی دھاریں ہوتی ہیں ۔
نُقَاسِمُ:قَاسَمَ فلانٌ فلانًا:
کسی سے اپناحصہ لینا،دونوں میں سے ہر ایک کا اپنااپنا حصہ لینا ۔
فی الحدیث:( واﷲ یعطی وانا قاسم))۔ غواشیھا:مف:الغاشی:
ڈھانکنے والا۔الغاشیۃ:پردہ ڈھکنا،دل کاپردہ،قیامت۔
(ھَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ)(88/1)
اچھی یا بری پیش آمدہ بات،تلوارکی میان(شعر میں یہی معنی مرادہے)،بھکاری جو بھیک مانگنے کے لیے آئے،باری باری آنے والے دوست واحباب،پیٹ کی اندرونی بیماری، سخت ترین سزا۔
وَقَالَ اَیْضًا مَحْبُوْسًا بِمَکَّۃَ (الطویل)
1۔۔۔۔۔۔
ھَوَایَ مَعَ الرَّکْبِ الْیَمَانِیْنَ مُصْعِدٌ جَنِیْبٌ وَجُثْمَانِیْ بِمَکَّۃَ مُوْثَق،