Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
50 - 324
              تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں

              خنجر   ہلال    کا   ہے   قومی    نشاں   ہمارا
حل لغات:
    ابتدرنا:ابتدر القومُ أمرًا:
کسی کام کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لئے آگے بڑھنا۔ مأزقا:تنگ جگہ،۔پریشانی
۔ج:مآزِقْ۔ اَزق(ض)اَزْقاً:
تنگ ہونا۔الشیئَ:تنگ کرنا۔ فَرَجَتْ: (ض)فَرْجًا:کھولنا،کشادہ کرنا،پھاڑنا،
 (واذا لسماء فرجت)
ایمان:مف:یمین۔ بیض:مف:اَبْیَضْ: سفید،تلوار، چاندی۔ جلت:مص:جَلْوًا، امرَ:کسی امرکو واضح کرنا، ظاہر وآشکار کرنا۔السَّیْفَ:صیقل کرنا،زنگ دور کرنا، پالش کرنا،چمکانا۔اَلصَّیَاقِلُ:مف:اَلصَّیْقَلْ:پالش کاکام کرنے والا،تلواریں صاف کرنے والا۔
6۔۔۔۔۔۔

     لَھُمْ صَدْرُ سَیْفِیْ یَوْمَ بَطْحَاءِ سَحْبَلٍ          وَلِیَ مِنْہُ مَاضُمَّتْ عَلَیْہِ الْاَنَامِل،
ترجمہ:

    وادی سحبل میں بطحاء کی جنگ میں میری تلوار کی دھار دشمنوں کے لئے اوراس کا قبضہ میرے لئے تھا۔ 

حل لغات:

    سیف:تلوار،تلوارکی شکل کی ایک مچھلی ،سمندر کاکنارہ ۔ج:
سُیُوْفٌ و اَسْیَاف۔
عربی مقولہ ہے :
اَلْوَقْتُ کَاالسَّیْفِ اِقْطَعْہُ وَاِلَّا یَقْطَعُکَ:
وقت تلوار کی طرح ہے اسے کاٹ ورنہ وہ تجھے کاٹ دیگا۔ بطحاء:کشادہ وادی ،مؤنث ہے الأبطح کی ۔کشادہ جگہ جہاں سے سیلاب کا پانی گزرتاہو۔ یوم بطحاء:بطحاء کی جنگ ۔
ضمت:ضُمَّ الشیءَ الی الشیئِ(ن)ضُمًّا:
جمع کرنا ،ایک شی کو دوسری کے ساتھ جوڑنا۔الیہ:اپنی طرف کھینچنا۔
فی القرآن المجید:
 (وَاضْمُمْ یَدَکَ إِلَی جَنَاحِکَ)(20/2 2)
علی:قبضہ کرنا۔ اَلاَناَمِلُ:مف:اَلْاُنْمُلَۃُ:انگلی کی گرہ،انگلی کا پورا،انگلی کی ہڈیاں،ناخن سے ملاہوا انگلی کاجوڑ ، انگلی ۔
( وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوۡا عَلَیۡکُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الْغَیۡظِ) (3/119)
وَقَالَ اَیْضًا(الطویل)
1۔۔۔۔۔۔

لَایَکْشِفُ الْغَمَّاءَ اِلّا اِبْنُ حُرَّۃٍ                  یَرٰی غَمَرَاتِ الْمَوْتِ ثُمَّ یَزُوْرُھَا
ترجمہ:

    سخت مصیبت کوآزادماں کابیٹاہی دور کرسکتاہے جو دور سے موت کی سختیوں کو دیکھے پھربھی ان میں گھس جائے۔
Flag Counter