Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
49 - 324
نوٹ:

    ہمارے ہاں دیوان حماسہ کے جونسخے پائے جاتے ہیں ان تمام میں''حضنا''حاء مھملۃکے ساتھ لکھا ہواہے،یہ کتابت کی غلطی ہے صحیح  لفظ جیم معجمۃکے ساتھ یعنی ''جضنا''ہے؛کیونکہ ''حیض''یا''حیضۃ ''کے جو معانی کتب لغت میں لکھے ہوئے ہیں وہ اس شعر میں مراد نہیں ہوسکتے اور اس کی تائید بیروت سے شائع شدہ دیوان حماسہ کے نسخ سے بھی ہوتی ہے یعنی ان میں یہ لفظ جیم معجمۃکے ساتھ ہے ۔
 (دیوان الحماسہ، ص 13، شرح مرزوقی، ص38، دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان)
الموت:مرنا،فنا، ہلاکت، زوال،خاتمہ،بے عقلی،بے حسی،عدمِ ایمان۔
فی القرآن المجید:
 (اومن کان میتا فاحیینہ)۔
طبیعت کمزورکرنے والی چیزیں جیسے خوف، رنج ، غم۔
 (یأتیہ الموت من کل مکان وماھو بمیت)
ماتَ الحیُّ(ن)مَوْتًا:
مرنا۔
 (کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ) (29/57)
موت کی تعریف:
     اَلموت:صفۃ وجودیۃ خلقت ضدا للحیاۃ۔
موت وہ صفت  وجودی ہے جو حیات کی ضد ہے۔
وباصطلاح اہل الحق:قمع ھوی النفس فمن مات عن ھواہ فقد حیی بھداہ۔
اوراصطلاح اہل تصوف میں خواہشاتِ نفسانی کا قلع قمع کردینے کوموت کہتے ہیں تو جس نے اپنی خواشات کو مار دیا تحقیق وہ اللہ تبارک تعالی کی ہدایت سے بہرہ مند ہوگیا۔
والموت الأبیض:الجوع؛ لأنہ ینوّرالباطن ویبیض وجہ القلب فمن ماتت بطنتہ حییت فطنتہ:موتِ ابیض :
بھوک کو کہتے ہیں؛کیونکہ بھوک باطن کو نورانی اور روئے قلب کوروشن کردیتی ہے اور جس کی حرص ِ بطن ختم ہوگئی اس کی ذہانت زندہ ہوگئی۔
اَلعَمْرُ، العُمْرَ، العُمُر:
زندگی۔لیکن یَمِیْن(قسم)میں صرف اَلعَمْر(بفتح العین)ہی استعمال ہوتاہے۔
 (شرح مرزوقی ج1ص38 بیروت)
ج:اَعْمَارٌ۔ فی القران المجید:
 (یَوَدُّ أَحَدُھُمْ لَوْ یُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَۃٍ)(2/ 96)
الْمَدٰی والمَدْیُ:
غایت،حد،اصلہ، مسافت، دوری،عرصہ،میعاد۔ مُتَطَاوِلُ:فا(تفاعل)تَطَاوَلَ:دراز ہونا۔
 (فَتَطَاوَلَ عَلَیْہِمُ الْعُمُرُو)(28/45)
دور کی چیزکی طر ف گردن بلند کرکے دیکھنا،تکبرکر نا، فخر کرنا،ظلم کرنا،لمبائی ظاہر کرنا۔
5۔۔۔۔۔۔

     اِذَا مَابْتَدَرْنَا مَاْزِقًا فَرَجَتْ لَنَا          بِاَیْمَانِنَا بِیْضٌ جَلَتْھَا الصَّیَاقِل،
ترجمہ: 

    جب ہم تنگ میدان جنگ میں جلدی کرتے ہیں تو (اسے)کشادہ کر تی ہیں ایسی تلواریں جو ہمارے دائیں ہاتھوں میں ہوتی ہیں جنہیں پالش کر نے والوں نے چمکایا ہو تاہے۔
Flag Counter