Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
48 - 324
              کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے 

              ہے بھروسہ  اپنی ملت کے مقدر پر مجھے
حل لغات :
کَرَّۃٌ:لڑائی میں حملہ ،ایک بارپلٹنا ۔
فی القرآن المجید:
 (أَوْ تَقُولَ حِیْنَ تَرَی الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِیْ کَرَّۃً فَأَکُونَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ) (39/ 58)
مولّدین یا حساب دانوں کے نزدیک ایک لاکھ۔ج :کَرَّاتٌ۔ الکرۃ: صبح وشام، ایک دفعہ یا باری۔
 (ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنقَلِبْ إِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِأً وَہُوَ حَسِیْرٌ)(67/4)
    واپسی،فنا کے بعد دوبارہ پیدائش۔تُغَادِرُ:چھوڑنا،باقی رکھنا، بچانا ۔صَرْعٰی:مف: الصریع:پچھاڑا ہوا،مجنون،نیم مردہ۔نَوْءٌ:مص(ن)مشقت و تکلیف سے اٹھنا۔
اَلنَّوْءُ:فلانٌ نَوْءُ ہ، مَتَخَاذِلٌ:
فلان کا اٹھنا کمزور ہے ،ڈوبنے کے قریب ستارہ،سخت بارش،عطیہ، بخشش۔
ج:اَنْوَاءٌ ونَوَاءٌ۔ مُتَخَاذِلٌ:
فا(تفاعل)تَخَاذَلَ:بعض کا بعض کی مددکو چھوڑدینا،باہم امداد ترک کردینا، پیچھے ہٹنا ۔
(وَکَانَ الشَّیۡطٰنُ لِلْاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا ) (25/29)
4۔۔۔۔۔۔

وَلَمْ نَدْرِ اِنْ جِضْنَا مِنَ الْمَوْتِ جَیْضَۃً          کَمِ الْعُمْرُ بَاقٍ وَالْمَدٰی مُتَطَاوِل،
ترجمہ:

    اگر ہم موت سے بچ گئے تومعلوم نہیں کتنی عمر باقی ہے اور کتنی زندگی طویل ہے۔

مطلب:

    اگر ہم بزدلی کامظاہر کرتے ہوئے میدانِ جنگ سے فرار ہوجائیں تو زندگی کاکوئی پتا نہیں،ایسانہیں کہ ہم زندہ رہناچاہیں توزندگی ہم سے وفاکرے یعنی زندگی پر کوئی بھروسہ نہیں،اس لئے عقلمندی یہ ہے کہ مردانگی کامظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کامقابلہ کیا جائے؛ کیونکہ جوہونا ہے وہ تو ہوکر رہے گا۔
           کٹ مرے  اپنے  قبیلے کی  حفاظت کیلئے

          مقتل ِ شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی
حل لغات:
    لم ندر:دَرَی الشیءَ وبِہٖ(ض)دَرْیاً:
جاننا،کسی تدبیر وحیلہ سے واقفیت حا صل کرنا۔
فی القرآن المجید:
 (وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِیْہْ) (69/26)
فلانًا:دھوکہ دینا،چال چلنا۔
الرأسَ بِالمِدْرٰی:
سر میں کنگھا کرنا ۔
جضنا:جاض(ض)جَیْضًا:
اکڑ کر چلنا،اترا کر چلنا۔عن الشیئِ:بچنا،الگ رہنا۔فی القتال: لڑائی سے بھاگنا۔
Flag Counter