Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
47 - 324
کیا گیاہے۔
 (شرح مرزوقی ج1ص37بیروت، لبنان)
المُباسِل:فا:دیکھئے :بسالۃ۔
2۔۔۔۔۔۔

     فَقَالُوْا لَنَا ثِنْتَانِ لَابُدَّ مِنْھُمَا             صُدُوْرُ رِمَاحٍ اُشْرِعَتْ اَوْ سَلَاسِل،
ترجمہ: 

    تودشمنوں نے ہم سے کہا:''دو باتیں ہیں، جن میں سے ایک ضروری ہے تیز دھارنیز وں کی نوکیں یا زنجیریں''۔

مطلب:

    ''اَوْ''یہاں تخییرکیلئے ہے جس طرح کہتے ہیں:
خُذِ الدِّینارَ اَوِالثَّوبَ وکُلِ السَّمَکَ اَوِ اشْرَبِ اللَّبَنَ:
یعنی دشمن نے للکار کرکہا:خبردار!آج دو باتوں میں سے ایک توضرورہوگی،سخت قتل وغارت گری ہوگی، اگر تم اس سے بچ گئے توپھرتمہیں رسیوں میں جکڑکرقید کر کے ذلیل ورسواکیا جائے گا۔
 (شرح مرزوقی ج1ص37 بیروت)
حل لغات:
    لابد:البد:چارہ کار،حفاظت کی جگہ،بھاگنے کی جگہ۔لابد من ھذا:یہ لازمی ہے ،بدلہ، عوض۔ ج:اَبْدَاد۔صدور:مف:الصدر:ہر چیز کا اگلاحصہ، حصہ، ٹکڑہ ، سردار،انسان کاسینہ۔ عربی مقولہ ہے:
صُدُوْرُ الْاَحْرَارِ قُبُوْرُ الْاَسْرَارِ:
شریفوں کے سینے رازوں کی قبرہوتے ہیں۔
رِمَاحٌ واَرْماح:مف:اَلرُّمْحُ:
نیزہ(وہ ڈنڈا جس کے سرے پر نوک دار لوہا لگا ہوتا ہے۔)اَلرُّمْحُ:فقروفاقہ۔
اشرعت:اشرع الطریقَ:
راستہ ظاہر کرنا، واضح کرنا۔
فی القرآن المجید:
 (شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصَّی بِہِ نُوحاً) (42/13)
علیہ الرمح:
اس نے اس کی طرف نیزہ سیدھا کیا ۔ سلاسل:مف:اَلسِّلْسِلَۃُ:زنجیر، سلسلہ،ر ابطہ، کورس۔
 ( اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیۡۤ اَعْنَاقِہِمْ وَ السَّلٰسِلُ ؕ یُسْحَبُوۡنَ  ) (40/71)
3۔۔۔۔۔۔

     فَقُلْنَا لَھُمْ تِلْکُمْ اِذًا بَعْدَکَرَّۃٍ             تُغَادِرُ صَرْعٰی نَوْءُ ھَا مُتَخَاذِل،
ترجمہ: 

     ہم نے ان سے کہا تمہاری یہ باتیں ایک ایسے حملے کے بعد ہوں گی جو ایسے پچھاڑے کہ اس کے بعداٹھناکمزور ہو۔ 

مطلب:

     جب تک ہمارے بہادرزندہ ہیں اس وقت ایساممکن نہیں،ہاں سخت حملے میں جب دونوں فریق کے لوگ ایسے پچھاڑے جائیں کہ نہ وہ اٹھنے کے لائق ہوں نہ دفاع کے اہل ، توپھرتمہاری یہ بات ممکن ہے ۔
 (شرح مرزوقی ج1ص38 بیروت)
Flag Counter