Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
46 - 324
وَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عُلْبَۃَ الْحَارِثِیُّ (الطویل)
شاعر کانام:
     جعفر بن علبہ حارثی، یہ بنو عباس کے ایک اسلامی شاعر ہیں ۔
اشعار کاپس منظر :
    یہ شاعر اور بنو عقیل بن کعب کاایک شخص دونوں ایک لونڈی کے پاس جاتے تھے پھران دونوں کی آپس میں رقابت شروع ہو گئی جس کی بناء پر جعفر نے اسے قتل کردیا۔دوسری روایت یہ ہے کہ جعفر ،بنو عقیل کی عو رتوں کوچھیڑاکرتاتھا انہوں نے اسے منع کیا لیکن یہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو انہوں نے اس سے لڑائی کی جس کے نتیجے میں اس نے ان کے ایک آدمی کو قتل کر دیا وہ بادشاہ کے پاس قصاص کے لئے گئے ، بادشاہ نے اسے مکہ مکرمہ میں قید کر دیا تو اس پر جعفربن علبہ نے یہ اشعار کہے :
1۔۔۔۔۔۔

     اَلَھْفٰی بِقُرّٰی سَحْبَلٍ حِیْنَ اَجْلَبَت          عَلَیْنَا الْوَلَایَا وَالْعَدُوُّ الْمُبَاسِل،
ترجمہ: 

    ہائے میری حسرت !وادی سحبل کے مقامِ قرّٰی پر جس وقت ہمارے خلاف بچوں اور عورتوں نے مدد کی اور دشمن بہادر تھے۔ 

حل لغات:

     اَلَھْفٰی:یہ اصل میں''اَلَھْفِیْ''تھا، ہمزہ ندا کیلئے ہے اور''لَھَفٌ''مصدر ''یاءِ متکلم ''کی طرف مضاف ہے ''یاءِ متکلم ''کوتخفیفًا الف سے تبدیل کیاتو اَلَھْفٰی ہوگیا ۔
لَھِفَ علی الفائِتِ(س)لَھَفًا:
فوت شدہ چیز پر رنجیدہ ہونا،کف ِافسوس ملنا۔لَھْفًا:کرب وکلفت میں مبتلا ہونا۔قُرّٰی:جگہ کانام ہے۔اَجْلَبَتْ:(افعال) اَجْلَبَ القومُ:لوگوں کا جمع ہونا،ہجوم کرنا۔ اَلرَّجلَ:دھمکی دینااورلوگوں کو اس کے خلاف اکٹھاکرنا،مدد دینا،لوگوں کو مددکے لئے اکٹھاکرنا۔بیروت کے نسخے میں''اَحْبَلَتْ''اورمرزوقی و تبریزی کی روایت میں'' احلبت''ہے احلب فلانًا:دوہنے میں مدد کرنا، مدد کرنا۔القومُ:ہر طرف سے آکر لڑائی وغیرہ کے لئے جمع ہونا۔الولایا:مف:اَلْوَلِیَّۃُ یہ مؤنث ہے وَلِیٌّ کی:زاہد وبزرگ عورت،اونٹ کی کمر پر رکھا جانے والاگدا،وہ کھانا جو عورت آنے والے مہمان کے لئے محفوظ کرے۔''وَالْعَدُوُّ ''سے جنس ِ عدو کی طرف اشارہ ہے اورلفظِ عدو کااعتبار کرتے ہوئے المُباسِل مفرد لایا گیاہے،معنی کااعتبار نہیں کیاگیا،جس طرح قرآن کریم میں ہے:
 (فَإِنَّھُمْ عَدُوٌّ لِّیْ إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ)(26/77)
یہاں بھی معنی کااعتبار
Flag Counter