((اِدْرَؤُوا الْحُدودَ بالشبھاتِ))اَلاَعَادِیْ:
جج، اَعْدَاءٌ وعِدًی:مف:عَدُوٌّ:
دشمن۔مذکر مؤنث واحد وجمع سب کے لئے۔
(إِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمْ عَدُوّ)(35/6)
داووا:(مفا علہ)علاج کرنا، دوادینا ۔اَلجُنُونُ:دماغی خلل، دیوانگی،بیوقوفی۔
(مَا أَنتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُونٍ) (68 /2)
7۔۔۔۔۔۔
وَلَایَرْعَوْنَ اَکْنَافَ الْھُوَیْنَا اِذَا حَلُّوْا وَلَا اَرْضَ الْھُدُوْنٖ
ترجمہ:
جب وہ پڑاؤکرتے ہیں تو اپنے اونٹ نرم زمین کے اطراف اور صلح والی زمین میں نہیں چراتے ۔
مطلب:
وہ اپنے اونٹوں کو سادہ زمین کا چارہ نہیں کھلاتے نیز معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے صلح والی زمین میں جانور نہیں چھوڑتے۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دانستہ طور پر دشمن کی زمین میں اپنے جانور چراتے ہیں ،یعنی جنگ وجدال ان کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے اور ان کی شجاعت وبہادری بے مثال ہے۔
یرعون:رَعَی المَاشِیَۃَ(ف)رَعْیًا:
جانورکو چرانا۔الحیوانَ:جانور کاچرنا۔الشیئَ:خیال رکھنا،حفاظت کرنا۔
(فَمَا رَعَوْھَا حَقَّ رِعَایَتِھَا)(57/27)
نگرانی کرنا ، ذمہ داری لینا،پرورش کرنا،انتظام کرنا۔لہ،:پاسداری کرنا،خیال رکھنا۔
(وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِأَمَانَاتِھِمْ وَعَہْدِھِمْ رَاعُونَ)(23/8)
اَکْنافٌ: مف:اَلْکَنَفُ:کسی چیز کا کنارہ ،سایہ، پہلو،حفاظت ، گود۔ اَلْھُوَیْنا:یہ تصغیرہے ھُوْنٰیکی اورھُوْنٰی اَھْوَن کی مؤنث ہے :نرمی ، آہستگی، ذلت، ورسوائی، وقار ،تواضع۔حلوا:حَلَّ العقدۃَ(ن)حَلًّا:گرہ کھولنا۔ (ض،ن) حُلُولًا:کسی جگہ اترنا۔
(أَوْ تَحُلُّ قَرِیْباً مِّن دَارِھِمْ) (13/31)
(ض)حلِاً:کسی چیز کاحلال ہونا۔الدین:ادائیگی قرض کا وقت پہنچنا۔(س)حَلَلاً:پاؤں یاٹخنے میں ڈھیلاپن ہونا ۔ عربی مقولہ ہے:
اِذَاحَلَّتِ الْمَقَادِیْرُ بَطَلَتِ التَّدْبِیْرُ:
جب تقدیراتر آتی ہے توتدبیریں باطل ہوجاتی ہیں ۔ ارض:زمین ، زمین کاایک حصہ۔
(قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلَی خَزَآئِنِ الأَرْض إِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ)(12/55)
خشکی،فرش، ہر چیز کا نچلا حصہ ۔
ج:اَرْضُون واَرَاضٍ واُرُوْضٌ۔ اَلھُدونُ: ھَدَنَ فلانٌ (ض)
ساکن ہونا،پر سکون ہو نا،بے وقوف ہونا۔