موت،فیصلہ۔ عربی مقولہ ہے:
رُبَّ اُمْنِیَّۃٍ جَلَبَتْ مَنِیَّۃً:
بہت سی تمنائیں موت کھینچ لا تی ہیں ۔
چکر لگانا، کسی چیز کے ارد گرد گھومنا ،گھومنا،جہاں سے آیاوہاں واپس جانا ۔
(وَیَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَائِرَ عَلَیْہِمْ دَآئِرَۃُ السَّوْءِ)(9/ 98)
ج:اَرْحٍ واَرْحَاءٌ۔الحرب:
لڑائی،جنگ،مؤنث سماعی کبھی بمعنی قتال مذکر بھی استعمال ہوتاہے ۔
(ککُلَّمَاۤ اَوْقَدُوۡا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَہَا اللہُ)(5/64)
اَلزَّبُونُ:صفت۔زَبَنَہ، وبَہٖ (ض)زَبْنًا:دھکیلنا، پھینکنا، ہٹانا۔
الحربُ تَزْبَنُ النَّاسَ:
3۔۔۔۔۔۔
وَلَایَجْزُوْنَ مِنْ حَسَنٍ بِسِیْئٍ وَلَایَجْزُوْنَ مِنْ غِلَظٍ بِلِیْنٖ
ترجمہ:
اور وہ اچھائی کابدلہ نہ تو برائی سے دیتے ہیں نہ سختی کا بد لہ نرمی سے ۔
فائدہ:
اس شعراورآئندہ اشعار میں''فوارس''کی صفات کا ذکر ہے۔
حَسَنٌ:صفت،ج:حِسَانٌ(مذکر ومؤنث کے لئے)حَسُنَ(ن)حُسْنًا:حسین وخوب صورت ہو نا ۔ عربی مقولہ ہے:
لاتَعْدَمُ الحَسَنَاءُ ذَامًّا:
کوئی حسینہ عیب سے خالی نہیں ۔سِیْئٌ:یہ''سَیِّیءٌ'' کامخفف ہے :برا،قبیح۔
( اسْتِکْـبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَکْرَ السَّیِّیَٔ ؕ وَ لَا یَحِیۡقُ الْمَکْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَہۡلِہٖ ) (35/43)
سُوْءُ الظَّنِّ مِنْ شِدَّۃِ الضِّنِّ:
بد گمانی انتہائی دوستی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
غِلَظٌ:مص:غَلَظَ الشیئُ(ض)
موٹا ہونا،گاڑھاہونا، سخت ہونا۔
(یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ)(9/73)
کسی پر سخت ہو نا،کسی کے ساتھ سختی برتنا۔
(عَلَیۡہَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ )۔(66/6)