Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
43 - 324
2۔۔۔۔۔۔

     	فَوَارِسَ لَایَمَلُّوْنَ الْمَنَایَا                اِذَا دَارَتْ رَحَی الْحَرْبِ الزَّبُوْنٖ
ترجمہ:

    ایسے شہسوار جو موت سے نہیں گھبراتے جب دور کرنیوالی (شدید)جنگ کی چکی گھومے۔

حل لغات:
     یَمَلُّوْنَ:مَلَّ فلانٌ الشی ءَ وعنِ الشیءِ(س)مَلَلاً:
کسی چیز سے اکتا جا نا ،تنگ آجانا ، دل اچاٹ ہو جانا ۔
المنایا:مف:اَلمَنِیَّۃُ:
موت،فیصلہ۔ عربی مقولہ ہے:
رُبَّ اُمْنِیَّۃٍ جَلَبَتْ مَنِیَّۃً:
بہت سی تمنائیں موت کھینچ لا تی ہیں ۔
دارت:دَارَ(ن)دَوْرًا:
چکر لگانا، کسی چیز کے ارد گرد گھومنا ،گھومنا،جہاں سے آیاوہاں واپس جانا ۔
فی القرآن المجید:
 (وَیَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَائِرَ عَلَیْہِمْ دَآئِرَۃُ السَّوْءِ)(9/ 98)
رحی:چکی (آٹا پیسنے کی)
دارتْ رَحَی الحربِ:
لڑائی چھڑگئی۔
ج:اَرْحٍ واَرْحَاءٌ۔الحرب:
لڑائی،جنگ،مؤنث سماعی کبھی بمعنی قتال مذکر بھی استعمال ہوتاہے ۔
 (ککُلَّمَاۤ اَوْقَدُوۡا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَہَا اللہُ)(5/64)
اَلزَّبُونُ:صفت۔زَبَنَہ، وبَہٖ (ض)زَبْنًا:دھکیلنا، پھینکنا، ہٹانا۔
حَرْبٌ زَبُونٌ:
سنگین جنگ ۔
الحربُ تَزْبَنُ النَّاسَ:
جنگ لوگوں کو ٹکراتی ہے۔
3۔۔۔۔۔۔

      وَلَایَجْزُوْنَ مِنْ حَسَنٍ بِسِیْئٍ            وَلَایَجْزُوْنَ مِنْ غِلَظٍ بِلِیْنٖ
ترجمہ:

     اور وہ اچھائی کابدلہ نہ تو برائی سے دیتے ہیں نہ سختی کا بد لہ نرمی سے ۔ 

فائدہ:

    اس شعراورآئندہ اشعار میں''فوارس''کی صفات کا ذکر ہے۔
حل لغات:
    حَسَنٌ:صفت،ج:حِسَانٌ(مذکر ومؤنث کے لئے)حَسُنَ(ن)حُسْنًا:حسین وخوب صورت ہو نا ۔ عربی مقولہ ہے:
لاتَعْدَمُ الحَسَنَاءُ ذَامًّا:
کوئی حسینہ عیب سے خالی نہیں ۔سِیْئٌ:یہ''سَیِّیءٌ'' کامخفف ہے :برا،قبیح۔
فی القرآن المجید:
 ( اسْتِکْـبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَکْرَ السَّیِّیَٔ ؕ وَ لَا یَحِیۡقُ الْمَکْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَہۡلِہٖ ) (35/43)
عربی مقولہ ہے:
سُوْءُ الظَّنِّ مِنْ شِدَّۃِ الضِّنِّ:
بد گمانی انتہائی دوستی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
غِلَظٌ:مص:غَلَظَ الشیئُ(ض)
موٹا ہونا،گاڑھاہونا، سخت ہونا۔
(یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ)(9/73)
علیہ ولہ:
کسی پر سخت ہو نا،کسی کے ساتھ سختی برتنا۔
ج:غِلَاظٌ۔
 (عَلَیۡہَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ )۔(66/6)
Flag Counter