Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
42 - 324
    ''وَمَامَلَکَتْ یَمِیْنِیْ''
اس میں ''یمین''کی تخصیص اس کی فضیلت اور قوت تصرف کی وجہ سے ہے،اس سے مراد سب کچھ ہے؛ کیونکہ اہل عرب جزء بول کر کل مراد لیتے ہیں اور اس کی طرف واقعات وغیرہ منسوب کرتے ہیں،اسی مناسبت سے قرآن میں ہے:
 ( فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خَاضِعِیۡنَ  )(26/4) (أوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُم) (23/6)
حل لغات:
     فَدَتْ:فَدَاہُ(ض)فَدًی:
فدیہ دینا،کسی کو مال کے بدلے قیدوغیر ہ سے چھڑانا ،جان بچانا۔بِمَالِہٖ:اس پر اپنامال قربان کرنا، قربان ہونا۔ کہتے ہیں:فداک ابی:تم پرمیرا باپ قربان ۔
فی القرآن المجید:
 (وَمِثْلَہُ مَعَہُ لَافْتَدَوْا)(39/47)
نَفْسٌ:روح ، جان ۔
 (یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْأً (82/19)
دل،ظرف،خون، بدن ، نظربد،شخص،کسی چیز کی ذات ،عین۔
نفس الشیئ،عین الشیئ، نفس الامر:حقیقۃ الامر۔ اَلنَّفْسُ:
عظمت ، ہمت،عزت، ارادہ،رائے، خودداری ، عادت ، طبیعت ، صبرو ہمت ، عقل، عیب، سزا، پانی ۔نفس سے مراد اگر روح لیں تو مؤنث ہو تاہے ۔جیسے:خرجت نفسُہ۔ اگر شخص مراد ہو تو مذکر ہو تاہے۔ جیسے:
خمسۃ عشر نفسًا۔ مَلَکَت:ملک الشیءَ (ض)مُلْکًا:
مالک ہونا۔علی القوم:غالب ہو نا۔ نفسَہ:اپنے اوپر قابو رکھنا۔المرأۃَ:عورت سے نکاح کر نا ۔
 ( اِلَّا عَلٰۤی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُہُمْ )(23/6)
الملک:بضم المیم وسکون اللام:
بادشاہی ۔
 (لمن الملک الیوم) (40/ 16)
بفتح المیم واللام:
فرشتہ ۔
 (قُلْ یَتَوَفَّاکُم مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُم)(32/11)
یمین:(ضد الیسار)داہنا ہاتھ ، دا ہنی جانب۔
 (وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیۡنِ) (56/27)
برکت، طاقت،قوت،قسم۔
اَ تَوْنا عَنِ الْیَمِیْنِ:
انہوں نے ہمیں اعتماد میں لیکر دھوکادیا۔
فُلانٌ عندَنا بِالیمینِ:
فلاں کا ہمارے ہان بڑا احترام ہے ۔
ج:اَیمَانٌ واَیمُنٌ واَیامِنُ۔ فوارس:مف:الفارس:
گھوڑوں کی سواری کا ما ہر،شہسوار،مرد میدان۔''فوارس'' سیبویہ کے نزدیک جموع میں شاذ ہے؛کیونکہ ذو العقول کی صفات میں''فاعلۃ''کی جمع ''فَواعل''آتی ہے نہ کہ''فاعل''کی،ابو العباس مُبَرَّد نے کہا:یہ جمع سب میں اصل ہے اور شعر میں بھی جائز ہے۔
 (شرح مرزوقی ج1ص32،33 بیروت )
صدقت:صَدَّقَہ، وبِہٖ تصدیقا:
سچاماننا،سچاٹھرانا ،تصدیق کرنا،سچا کر دکھانا ۔
 (لَقَدْصَدَّقَ عَلَیْہِمْ إِبْلِیْسُ ظَنَّہُ فَاتَّبَعُوہُ إِلَّا فَرِیْقاً مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ)(34/20)
بروئے کار لانا۔علی الامرِ:اقرار کرنا، مان لینا،منظورکرنا۔''صَدَّقَتْ''مرزوقی کے نسخہ میں ''صدَّقُوا''ہے۔
ظُنُونٌ:مف:اَلظَّنُّ:
گمان، خیال،شک ،اٹکل،اندازہ، ذہن کا کسی چیز کوترجیح کے ساتھ قبول کرنا،یقین ۔الظَّنُونُ:ناقابل اعتبار۔رجلٌ ظنونٌ:کمزو رذہن ،سادہ طبعیت،جس کی عقل پر اطمینان نہ ہو ،بدگمان آدمی۔ عربی مقولہ ہے:
ظَنُّ العَاقِلِ خَیرٌمِنْ یَقِیْنِ الْجاھِلِ:
عاقل کاگمان، جاہل کے یقین سے بہتر ہے ۔
Flag Counter