اس میں ''یمین''کی تخصیص اس کی فضیلت اور قوت تصرف کی وجہ سے ہے،اس سے مراد سب کچھ ہے؛ کیونکہ اہل عرب جزء بول کر کل مراد لیتے ہیں اور اس کی طرف واقعات وغیرہ منسوب کرتے ہیں،اسی مناسبت سے قرآن میں ہے:
نفس الشیئ،عین الشیئ، نفس الامر:حقیقۃ الامر۔ اَلنَّفْسُ:
عظمت ، ہمت،عزت، ارادہ،رائے، خودداری ، عادت ، طبیعت ، صبرو ہمت ، عقل، عیب، سزا، پانی ۔نفس سے مراد اگر روح لیں تو مؤنث ہو تاہے ۔جیسے:خرجت نفسُہ۔ اگر شخص مراد ہو تو مذکر ہو تاہے۔ جیسے:
خمسۃ عشر نفسًا۔ مَلَکَت:ملک الشیءَ (ض)مُلْکًا:
مالک ہونا۔علی القوم:غالب ہو نا۔ نفسَہ:اپنے اوپر قابو رکھنا۔المرأۃَ:عورت سے نکاح کر نا ۔
گھوڑوں کی سواری کا ما ہر،شہسوار،مرد میدان۔''فوارس'' سیبویہ کے نزدیک جموع میں شاذ ہے؛کیونکہ ذو العقول کی صفات میں''فاعلۃ''کی جمع ''فَواعل''آتی ہے نہ کہ''فاعل''کی،ابو العباس مُبَرَّد نے کہا:یہ جمع سب میں اصل ہے اور شعر میں بھی جائز ہے۔
بروئے کار لانا۔علی الامرِ:اقرار کرنا، مان لینا،منظورکرنا۔''صَدَّقَتْ''مرزوقی کے نسخہ میں ''صدَّقُوا''ہے۔
ظُنُونٌ:مف:اَلظَّنُّ:
گمان، خیال،شک ،اٹکل،اندازہ، ذہن کا کسی چیز کوترجیح کے ساتھ قبول کرنا،یقین ۔الظَّنُونُ:ناقابل اعتبار۔رجلٌ ظنونٌ:کمزو رذہن ،سادہ طبعیت،جس کی عقل پر اطمینان نہ ہو ،بدگمان آدمی۔ عربی مقولہ ہے: