Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
41 - 324
رَکِبَھَا ذَلَّ وَمَنْ صَحِبَھَا ضَلَّ:
جہالت وہ سواری ہے کہ جو اس پر سوار ہو گا ذلیل ہوگااور جو اسے ساتھی بنا ئے گا گمراہ ہو جا ئے گا ۔
اَلذِّلَّۃُ:مص:ذَلَّ(ض)ذِلَّۃً:
مذلیل ہو نا ،حقیر ہونا،بے وقعت ہونا،کمزور ہونا۔
 (وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّہُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّۃٌ) (3/123)
اِذْعَانُ:اذعن لہ:
تابع و مطیع ہونا۔بالحق:حق کا اقرار کرنا ۔
9۔۔۔۔۔۔

     وَفِی الشَّرِّ نَجَاۃٌ حِیْنَ             لَا یُنْجِیْکَ اِحْسَان،
ترجمہ:

     اور لڑائی ہی میں نجات ہے جب حسن سلوک تجھے نجات نہ دے ۔
حل لغات:
     فِی الشَّرِّ نَجَاۃٌ:
یہاں مضاف محذوف ہے اصل عبارت ہے
''فِی دفعِ الشَّرِّ نَجَاۃٌ''
اور یہ بھی مرادہوسکتی ہے
''فِی عملِ الشَّرِّ نَجَاۃٌ ''
 (برائی میں ہی نجات ہے ) ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ ''وَفِی الشَّرِ''بیروت کے نسخہ میں''فَلِلشَّرِّ''ہے۔
نَجَاۃٌ:مص،نَجا منہُ(ن)
کسی کی اذیت سے چھٹکاراپانا،خلاصی پانا،نجات پانا ۔ یُنْجِی:(افعال)انجا فلانٌ:بلند جگہ پر آنا،پاخانہ کرنا۔فلانا:رہائی دلانا۔
فی القرآن المجید:
 ( لَئِنْ اَنۡجَیۡتَنَا مِنْ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ) (10/22ا)
قَالَ اَبُوالْغُوْلِ الطُّھَوِیُّ (الوافر)
شاعر کانا م:
     ابو الغول طہوی ہے۔طُہَیَّہ(بروزن ُسمیہ)ایک عورت کا نام ہے جس کی طرف یہ منسوب ہیں، یہ دور بنو امیہ کے اسلامی شاعر ہیں ۔
اشعار کاپس منظر:
    ان کی ایک چراگاہ تھی، بنو بکر بن وائل اور بنو یر بو ع نے اس پر قبضہ کر نا چاہا ،بنو ما زن نے اس کا دفاع کیا تو شاعر نے بنوما زن کی تعریف کر تے ہو ئے یہ اشعار کہے:
1۔۔۔۔۔۔

فَدَتْ نَفْسِی وَمَامَلَکَتْ یَمِیْنِیْ           فَوَارِسَ صَدَّقَتْ فِیْھِمْ ظُنُوْنِیْ
ترجمہ:

    میری جان اور میراسب کچھ قربان ان شہسواروں پر! جن کے بارے میں میرے خیالات سچے ہوگئے ۔
Flag Counter