(وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّہُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّۃٌ) (3/123)
تابع و مطیع ہونا۔بالحق:حق کا اقرار کرنا ۔
9۔۔۔۔۔۔
وَفِی الشَّرِّ نَجَاۃٌ حِیْنَ لَا یُنْجِیْکَ اِحْسَان،
ترجمہ:
اور لڑائی ہی میں نجات ہے جب حسن سلوک تجھے نجات نہ دے ۔
یہاں مضاف محذوف ہے اصل عبارت ہے
''فِی دفعِ الشَّرِّ نَجَاۃٌ''
''فِی عملِ الشَّرِّ نَجَاۃٌ ''
(برائی میں ہی نجات ہے ) ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ ''وَفِی الشَّرِ''بیروت کے نسخہ میں''فَلِلشَّرِّ''ہے۔
کسی کی اذیت سے چھٹکاراپانا،خلاصی پانا،نجات پانا ۔ یُنْجِی:(افعال)انجا فلانٌ:بلند جگہ پر آنا،پاخانہ کرنا۔فلانا:رہائی دلانا۔
( لَئِنْ اَنۡجَیۡتَنَا مِنْ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ) (10/22ا)
قَالَ اَبُوالْغُوْلِ الطُّھَوِیُّ (الوافر)
ابو الغول طہوی ہے۔طُہَیَّہ(بروزن ُسمیہ)ایک عورت کا نام ہے جس کی طرف یہ منسوب ہیں، یہ دور بنو امیہ کے اسلامی شاعر ہیں ۔
ان کی ایک چراگاہ تھی، بنو بکر بن وائل اور بنو یر بو ع نے اس پر قبضہ کر نا چاہا ،بنو ما زن نے اس کا دفاع کیا تو شاعر نے بنوما زن کی تعریف کر تے ہو ئے یہ اشعار کہے:
1۔۔۔۔۔۔
فَدَتْ نَفْسِی وَمَامَلَکَتْ یَمِیْنِیْ فَوَارِسَ صَدَّقَتْ فِیْھِمْ ظُنُوْنِیْ
ترجمہ:
میری جان اور میراسب کچھ قربان ان شہسواروں پر! جن کے بارے میں میرے خیالات سچے ہوگئے ۔