اس کی عزت پر حملہ کیا ۔فی الشیئِ:داخل ہونا،شروع ہونا۔فَمٌ:اصل میں''فَوْہٌ''تھاپھر''ھا''کو خلاف قیاس حذف کر دیا گیا پھر واؤ کو میم سے تبدیل کر دیا گیاتو فم ہو گیا اور واؤ کو میم سے اس لئے بد لا کہ اگر نہ بدلتے تو عین کلمہ یعنی واؤ پر اعراب آجاتا ما قبل مفتوح ہو نے کی وجہ سے واؤ الف سے بدل جا تاپھر اجتماع ساکنین علی غیر حد ہ کی وجہ سے الف گر جا تا اور ایک حرف یعنی ''ف''کلمہ رہ جاتا۔ جہاں یہ علت نہیں ہو تی وہا ں واؤ کومیم سے نہیں بدلاجا تا ۔جیسے:فُوْکَ
(حا شیہ شرح ملاجا می،ص 31)
فی القرآن المجید:
( یَقُوۡلُوۡنَ بِاَفْوَاہِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمْ )(3/167)
عربی مقو لہ ہے:
فَمٌ تُسَبِّحُ وَیَدٌ تُذَبِّحُ:
زبا ن تعریف کررہی ہے اورہاتھ قتل کررہا ہے ۔
فِیْ فَمِیْ مَاءٌ وَھَلْ یَنْطِقُ مَنْ فِیْ فِیْہِ مَاءٌ:
میرے منہ میں پا نی ہے اور کیا وہ شخص بولتا ہے جس کے منہ میں پانی ہو ۔ یعنی مجھے تو کھلا پلادیا گیا ہے ۔
اَفْوَاھُھا مَجَاسُّھا:
ان کے منہ ان کے امتحان کی جگہ ہے۔یعنی گفتگو باطن کاپتہ دیتی ہے ۔
اَلزِّقُّ:
مشک،
ج:اَزْقَاقٌ وزِقَاقٌ۔غَذَا(ن)الماءُ غَذْوًا:
بہنا۔
الرجلُ غَذَوَانًا:
دوڑنا ،تیز چلنا ،نشاط سے تیز چلنے والاگھوڑا ۔مَلْآنٌ: بھراہوا پر،کام والا،زکام میں مبتلا۔
( اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَمَاتُوۡا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنۡ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِہِمۡ مِّلْءُ الۡاَرْضِ ذَہَبًا وَّلَوِافْتَدٰی بِہٖ ) (3/91)
س
ترجمہ:
اور بسا اوقات جہالت کے وقت بردباری کا مظاہرہ کر نا ذلت کے لئے جھکنا ہے ۔حل لغات:
بعض الشیئ:
کچھ حصہ خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ ۔
فی القرآن المجید:
( تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ )(2/253)
اَلحِلْمُ:
بردباری ، دور اندیشی، ضبط وتحمل ،عقل وخرد۔
فی القرآن المجید:
( اَمْ تَاۡمُرُہُمْ اَحْلَامُہُمۡ بِہٰذَاۤ اَمْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوۡنَ )(32/)
حَلُمَ(ک)حِلْمًا:درگزر کر نا ،برد با ر ہو نا یعنی ناگواری اور غصہ کے اظہار پر قدرت کے باوجود نرمی سے کام لینا،دور اندیش ہونا۔دانش مند ہونا ۔
(وَاللّہُ غَفُورٌ حَلِیْم)(2/ 225)
عربی مقولہ ہے :
حِلْمِیْ اَصَمُّ وَاُذُنِی غیرُ صَمَّاء:
میرا حلم بہرا ہے کا ن بہرے نہیں ۔اَلجَھْلُ:نادانی ،ناواقفیت ،بے خبری ، بے وقوفی ۔
اَلجَھْلُ الْبَسِیْطُ:
ایسی شے سے ناواقف رہنا جس کا علم ہونا چاہے ۔
اَلجَھْلُ الْمُرَکَّبُ:
خلاف واقع کسی شے کا پختہ اعتقاد رکھنا۔
جَھِلَ فلانٌ علی غَیرہٖ(س)جَھْلًا:
بے وقوفی دکھانا۔
( قَالَ اَعُوۡذُ بِاللہِ اَنْ اَکُوۡنَ مِنَ الْجٰہِلِیۡنَ ) (2/67)
الرجُلُ:نہ جاننا ، ان پڑھ ہونا ۔الشیءَ وبہ:ناواقف ہونا،لاعلم ہونا،ظلم کرنا ،سخت کلا می کر نا ۔
( وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا )(25/63)
عربی مقولہ ہے :
اَلْجَھْلُ مَطِیَّۃٌ مَنْ