(وَاضْرِبْ لَہُم مَّثَلاً رَّجُلَیْن)(18/32)
(وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ الأَرْض)(4/ 101)
(فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ)(2/60)
کسی پر کوئی چیز لازم کرنا ۔
(وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ)۔(2/71)
(فَضُرِبَ بَیْنَہُم بِسُورٍ لَّہُ بَابٌ)(57/13)
لغت میں اس کے اور بھی کئی معنی لکھے ہیں ۔ عربی مقولہ ہے :
ضَرْبُ الْحَبِیْبِ اَوْجَعُ:
محبوب کی مار کا زیادہ دکھ ہو تا ہے۔
اِنَّکَ تَضْرِبُ فِی حَدِیْدٍ بارِدٍ:
توٹھنڈا لو ہا پیٹتاہے ۔یعنی بے فائدہ کوشش کر رہا ہے ۔توھین:مص(تفعیل)کمزورکرنا۔ مجرد سے کمزورہونا ۔
(وَلاَ تَہِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ) (3/139)
''تَوْھِیْنٌ''بیروت کے نسخہ میں''تفجیع''ہے۔ تخضیع:مص (تفعیل)عاجز ومطیع کرنا۔اقران:اس لفظ کے اعتبار سے شعرکامعنی تین طرح سے ہوسکتا ہے:(الف)قابوپا نا،تابع بنانا ۔
(سُبْحٰنَ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیۡنَ ) (43/13)
شعر کا ترجمہ اس معنی کے اعتبار سے کیا گیا ہے ۔اور باب تفعیل سے معنی ہے : قیدیوں کو رسیوں میں باندھنا ۔
( وَّاٰخَرِیۡنَ مُقَرَّنِیۡنَ فِی الْاَصْفَادِ ) (38/ 38)
(ب)دو چیزوں کو جمع کرنا ۔اس معنی کے لحاظ سے شعر کا ترجمہ:ہم ایسی شمشیر زنی کے ارادے سے چلے جس میں(دشمن کی)توہین و تذلیل کو جمع کر نا ہے۔(ج)سینگ والے مینڈھے کی قربانی کر نا۔اور یہ کنایہ ہے سردار کو قتل کرنے سے ۔ اس معنی کے لحاظ سے شعر کا ترجمہ یہ ہوگا:ہم ایسی شمشیر زنی کے ارادے سے چلے جس میں کمزور وذلیل کر نااور ان کے مسلح سردار کو قتل کر نا ہے ۔
7۔۔۔۔۔۔
وَطَعْنٍ کَفَمِ الزِّقِّ غَذَا وَالزِّقُّ مَلْآنُ
طعن:مص،طَعَنَہ، (ن، ف)طَعْنًا:
کسی میں عیب نکالنا،کسی بات پر