(وَیَبْقَی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِکْرَام)(55/27)
بَقَّ نَعْلَیْکَ وَابْذُلْ قَدَمَیْکَ:
اپنے جو تے با قی رکھو اور پا ؤ ں کا م میں لا ؤ ۔ یعنی اپنے نفس پر تکلیف برداشت کرواور مال بچاؤتاکہ معاملات خراب نہ ہوں۔ اَلْعُدْوَانُ:خالص ظلم، دشمنی ،زیادتی ،جارحیت،حملہ،چڑھائی ،گرفت،قابو۔
(فَإِنِ انتَہَوْا فَلاَ عُدْوَانَ إِلاَّ عَلَی الظَّالِمِیْن)(2/93 1)
عُدْوَانًا فلانًا عن الامرِ:
کسی کا م سے ہٹانا ،با ز رکھنا ۔دِنَّا:دانَ(ض)دِیْنًا:تابع وذلیل ہونا،جھکنا۔اطاعت کرنا۔لَہٗ و لَہٗ مِنْہُ:انتقام لینا ، قصاص لینا۔ بِکَذا:مذہب بنانا۔فُلانٌ دَیْنًا:قرضہ لینا،قرضہ زیادہ ہونا ، کسی خیر وشرکا عادی ہونا،ناپسندیدہ بات پرکسی کو مجبور کرنا،حساب کرنا،حساب لینا،قیادت ورہنمائی کرنا،انعام دینا، خدمت کرنا، اچھاسلوک کرنا، قرض دینا۔الشیئَ:کسی چیز کا مالک بننا ۔
5۔۔۔۔۔۔
مَشَیْنَا مِشْیَۃَ اللَّیْثِ غَدَا وَاللَّیْثُ غَضْبَان،
ترجمہ:
ہم (ان پر حملے کے لئے )غضب نا ک شیر کے صبح کے وقت چلنے کی طرح چلے ۔
ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتھے
پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑجاتے تھے
مَشَیْنَا:مَشَی(ض)مَشْیًا:
چلنا ،ارادے سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ۔بالنمیمَۃِ:چغلی کھانا۔ مَشَاءً:بہت مویشی والا ہو نا ۔
(وَلاَ تَمْشِ فِیْ الأَرْضِ مَرَحاً) (17/37)
مِشْیَۃً:مفعول مطلق یہاں بیا ن نوع کے لئے ہے ۔ اَللیثُ:شیر، مکڑی ، طاقت ، سختی،خوش بیان،بلیغ،جھگڑالو،بہادر اور باتونی آدمی۔ ج:لُیُوثٌ۔ غدا:(ن)غُدُوًّا:صبح کو جانا،مطلقا جانا ۔
(وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَہْلِکَ تُبَوِّءُ الْمُؤْمِنِیْنَ)(3/121)
ممکن ہے آئندہ کل کسی اور کیلئے ہو ۔ غَضْبَان:صیغہ صفت ومص۔بغض رکھنا، غضب نا ک ہو نا ،نا راض ہو نااور انتقام کی ٹھاننا ۔
(وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَی إِلَی قَوْمِہِ غَضْبَانَ أَسِفاً) (7/ 150)
غَضَبُ الْخیلِ عَلَی اللُّجُمِ:
گھوڑوں کا غصہ لگاموں پر ہو تا ہے ۔ بے فائدہ غصہ کے لئے بولاجاتاہے ۔