Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
38 - 324
ترجمہ کنزالایمان:''اللہ ان سے استہزاء فرماتا ہے (جیساکہ اسکی شان کے لائق ہے)''۔
حل لغات:
     لم یَبْقَ:بَقی(س)بَقَاءً:
دیر پا ہونا،باقی رہنا۔مِنْ:بچ جانا ۔ علی:محفوظ رکھنا،رحم کرنا،شفقت کرنا۔بقی(س)بَقَاءً،بَقٰی(ض)بَقْیًا:ہمیشہ رہنا ۔ثابت رہنا ۔
فی القرآن المجید:
 (وَیَبْقَی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِکْرَام)(55/27)
عربی مقولہ ہے :
بَقَّ نَعْلَیْکَ وَابْذُلْ قَدَمَیْکَ:
اپنے جو تے با قی رکھو اور پا ؤ ں کا م میں لا ؤ ۔ یعنی اپنے نفس پر تکلیف برداشت کرواور مال بچاؤتاکہ معاملات خراب نہ ہوں۔ اَلْعُدْوَانُ:خالص ظلم، دشمنی ،زیادتی ،جارحیت،حملہ،چڑھائی ،گرفت،قابو۔
 (فَإِنِ انتَہَوْا فَلاَ عُدْوَانَ إِلاَّ عَلَی الظَّالِمِیْن)(2/93 1)
عَدَا(ن)عَدْوًا:دوڑنا۔
عُدْوَانًا فلانًا عن الامرِ:
کسی کا م سے ہٹانا ،با ز رکھنا ۔دِنَّا:دانَ(ض)دِیْنًا:تابع وذلیل ہونا،جھکنا۔اطاعت کرنا۔لَہٗ و لَہٗ مِنْہُ:انتقام لینا ، قصاص لینا۔ بِکَذا:مذہب بنانا۔فُلانٌ دَیْنًا:قرضہ لینا،قرضہ زیادہ ہونا ، کسی خیر وشرکا عادی ہونا،ناپسندیدہ بات پرکسی کو مجبور کرنا،حساب کرنا،حساب لینا،قیادت ورہنمائی کرنا،انعام دینا، خدمت کرنا، اچھاسلوک کرنا، قرض دینا۔الشیئَ:کسی چیز کا مالک بننا ۔
5۔۔۔۔۔۔

     مَشَیْنَا مِشْیَۃَ اللَّیْثِ                           غَدَا وَاللَّیْثُ غَضْبَان،
ترجمہ:

    ہم (ان پر حملے کے لئے )غضب نا ک شیر کے صبح کے وقت چلنے کی طرح چلے ۔
             ٹل  نہ  سکتے تھے  اگر جنگ   میں   اڑ  جاتھے

             پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑجاتے تھے
حل لغات:
     مَشَیْنَا:مَشَی(ض)مَشْیًا:
چلنا ،ارادے سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ۔بالنمیمَۃِ:چغلی کھانا۔ مَشَاءً:بہت مویشی والا ہو نا ۔
فی القرآن المجید:
 (وَلاَ تَمْشِ فِیْ الأَرْضِ مَرَحاً) (17/37)
مِشْیَۃً:مفعول مطلق یہاں بیا ن نوع کے لئے ہے ۔ اَللیثُ:شیر، مکڑی ، طاقت ، سختی،خوش بیان،بلیغ،جھگڑالو،بہادر اور باتونی آدمی۔ ج:لُیُوثٌ۔ غدا:(ن)غُدُوًّا:صبح کو جانا،مطلقا جانا ۔
 (وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَہْلِکَ تُبَوِّءُ الْمُؤْمِنِیْنَ)(3/121)
عربی مقولہ ہے :
عَسٰی غَدٌ لِغَیْرِکَ:
ممکن ہے آئندہ کل کسی اور کیلئے ہو ۔ غَضْبَان:صیغہ صفت ومص۔بغض رکھنا، غضب نا ک ہو نا ،نا راض ہو نااور انتقام کی ٹھاننا ۔
 (وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَی إِلَی قَوْمِہِ غَضْبَانَ أَسِفاً) (7/ 150)
عربی مقولہ ہے :
غَضَبُ الْخیلِ عَلَی اللُّجُمِ:
گھوڑوں کا غصہ لگاموں پر ہو تا ہے ۔ بے فائدہ غصہ کے لئے بولاجاتاہے ۔
Flag Counter