2۔۔۔۔۔۔
عَسَی الْاَیَّامُ اَنْ یَّرْجِعْنَ قَوْمًا کَا الَّذِیْ کَانُوْا
ترجمہ:
یہ امید کرتے ہوئے کہ زمانہ قوم کو ان کی سابقہ حالت پر لوٹادے گا۔
حل لغات:
عسی:افعال مقاربہ سے جامد ہے ۔محبوب چیز میں امید کے لئے اور مکروہ بات میں خوف کے لئے آتاہے ۔
(قَالَ عَسَی رَبُّکُمْ أَن یُھْلِکَ عَدُوَّکُم)
ترجمہ کنزالایمان:''کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کرے ''۔[الاعراف: 129]
(وَتِلْکَ الأیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ)
ترجمہ کنزالایمان:''اور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لیے باریاں رکھی ہیں ''۔[آل عمران:140]
یرجعن:رَجَعَ فلانًا عنِ الشَّیْءِ(ض)رُجُوْعًا ورَجْعًا:
(فَإِن رَّجَعَکَ اللّہُ إِلَی طَآئِفَۃٍ مِّنْہُم)
ترجمہ کنزالایمان:''پھر اے محبوب اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے ''۔[التوبۃ:83]
(فَرَجَعَ مُوۡسٰۤی اِلٰی قَوْمِہٖ غَضْبَانَ اَسِفًا)
ترجمہ کنزالایمان:''تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا افسوس کرتا''۔ [طہ:86] اِلَیْہِ فِی اَمْرٍ:کسی معاملہ میں کسی سے مشورہ کرنا۔اِلَی الْاَمْرِ:کسی معاملہ پر توجہ دینا۔دوبارہ شروع کرنا،دوبارہ اختیار کرنا۔شعرمیں متعدی استعمال ہوا ہے۔
3۔۔۔۔۔۔
فَلَمَّا صَرَّحَ الشَّرُّ وَاَمْسٰی وَھْوَعُرْیَان،
ترجمہ:
جب برائی ظاہر ہوگئی اورکھل کر سامنے آگئی۔
حل لغات:
لَمَّا:بمعنی''جب''۔اس کی تین صورتیں ہیں ۔(1)یہ مضارع کے ساتھ خاص ہو اسے جزم دے اور لم کی طرح ماضی کے معنی میں کر د ے ۔(2)یہ ماضی کے ساتھ خاص ہو اس صورت میں یہ دوجملوں پر داخل ہو گا جن میں سے دوسرے کا وجود پہلے کے وجود کی وجہ سے ہو گا۔ جیسے:
(3)یہ حرف استثناء بمعنی''اِلَّا''ہو اس صورت میں