Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
35 - 324
مقولہ ہے:
مَنْ لَّمْ یَرْکَبِ الْاَھْوَالَ لَمْ یَنلِ الْآمَالَ:
جو ہولناکیوں پرسوارنہ ہوگا وہ امیدیں حاصل نہ کر سکے گا۔
شدوا:شَدَّ عَلَی الْعَدُوِّ(ن،ض)شَدًّا، وشَدّۃً:
دشمن پر حملہ کرنا ۔فلانٌ شَدًّا:دوڑنا(ض)شِدَّۃً:قوی ہونا۔
 (إِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ) (85/12)
الاغارۃ:حملہ، یورش ، یلغار۔
بیروت کے نسخے میں
''شَنُّوا الْاِغَارَۃَ''
ہے۔ عربی مقولہ ہے:
اَغَیْرَۃً وَجُبْنًا:
کیاغیرت بھی اوربزدلی بھی؟۔
فُرْسَانٌ:مف:فَارِسٌ:
گھوڑے سوار۔گھوڑوں کی سواری کاماہر۔
رُکْبَان:مف:رَاکِبٌ:
سوار۔
قَالَ الْفِنْدُ الزِّمَانِیُّ فِیْ حَرْبِ الْبَسُوْسِ
شاعرکاتعارف:
    شاعرکانام:شہل بن شیبان زمانی ہے (متوفی 70ق،ھ/555ء)اوریہ جاہلی شاعر ہے،یہ بنو بکر کا سردار تھا ۔
اشعارکاپس منظر :
     بسوس ایک عورت کا نام ہے، جو جساس بن مرۃ شیبانی کی خالہ تھی اس کی سراب نامی ایک اونٹنی کلیب بن وائل کی چراگاہ میں چلی گئی اور اس نے پرندے کے انڈوں کو توڑ دیاجسے کلیب نے پناہ دی ہوئی تھی،تو کلیب نے طیش میں آکر اونٹنی کے تھن میں تیر ماردیا،انتقامی کاروائی کرتے ہوئے جساس نے کلیب کو قتل کرڈالا، اس طرح بنو بکر اوربنو تغلب (جو کہ وائل کی اولادتھے)کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اور چالیس سال جاری رہی اس طرح یہ بسوس کا نام عرب میں نحوست کے لئے ضرب المثل بن گیا ۔
1۔۔۔۔۔۔

     صَفَحْنَا عَنْ بَنِیْ ذُھْلٍ           وَقُلْنَا الْقَوْمُ اِخْوَانُ
ترجمہ:

    ہم نے بنوذہل سے یہ کہتے ہو ئے در گزر کیا کہ یہ لوگ بھی ہمارے بھائی ہیں ۔

حل لغات:
     صَفَحْنَا:صَفَحَ عَنْہُ(ف)صَفْحًا:
اعراض کرنا،منہ پھیرنا۔عَنْ ذَنْبِہٖ:معاف کرنا،درگذرکرنا۔
فی القرآن المجید:
 (وَإِنَّ السَّاعَۃَ لآتِیَۃٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ)
ترجمہ کنزالایمان:''اور بیشک قیامت آنے والی ہے تو تم اچھی طرح درگزر کرو ''۔[الحجر:85]
فُلانًا عن حَاجَتِہٖ:
کسی کی ضرورت پوری کرنا۔اَلقومَ:ایک ایک کر کے پیش کرنا۔''صَفَحْنَا''بیروت کے نسخہ میں''عفونا''ہے۔
اِخْوَانٌ، اُخْوَانٌ، آخُوْن، آخاءٌ، اِخْوَۃٌ اوراُخْوَۃٌ۔
یہ سب مترادف ہیں ۔مف:اَلْاَخُ:بھائی،ساتھی، دوست۔ تثنیہ:اَخَوَانِ۔
 ( اِنَّ الْمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخْوَانَ
Flag Counter