لَمْ یَخْلُقْ لِخَشْیَتِہٖ اِنْسَانًا سِوَاھُم
یہ حروف اِسْتِثْنَاء میں سے ہے ۔اخفش رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کا قول ہے لفظ''سِوَی''جب غیر یا عَدل کے معنی میں استعمال ہوتو اس کے تین لہجے ہیں ''س''مضموم یا مکسور ہونےکی صور ت میں آخر میں یا ء مقصور آئے گی اور اگر''س''مفتوح ہوتو آخر میں الف ممدودہوگاچنانچہ کہیں گے:
مکانٌ سُوًی وسِوًی و سَوَاءٌ:
یعنی دونوں فریقوں کے درمیان۔ میرا کہنا ہے کہ اسی سے قول خداوندی ہے:(مَکَانًا سُوًی)اور تمہار ایہ کہنا کہ:
مَرَرْتُ بِرَجُلٍ سُوَاکَ وسِوَاکَ وسِوَائِک:
تمہارے علاوہ یا تمہارے بغیر۔
(فَانۡۢبِذْ اِلَیۡہِمْ عَلٰی سَوَآءٍ )
ترجمہ کنزالایمان:''تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر''۔،[الانفال:58]
(فِیۡ سَوَآءِ الْجَحِیۡمِ )
ترجمہ کنزالایمان:''بیچ بھڑکتی آگ''۔ [الصافات:55]جَمِیْعٌ:سب،کل ،لشکر۔
(وَ اِنَّا لَجَمِیۡعٌ حٰذِرُوۡنَ )[یس:56]
ترجمہ کنزالایمان:''اور بیشک ہم سب چوکنے ہیں''۔''مِنْ جَمِیْعِ ''بیروت کے نسخہ میں''فی جمیع''ہے۔ اَلنَّاسُ:اسم جمع برائے انسان ۔
(وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمْ اٰمِنُوۡا کَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡۤا اَنُؤْمِنُ کَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَہَآءُ ) [البقرۃ:13]
ترجمہ کنزالایمان:''اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤ جیسے اور لوگ ایمان لائے تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایمان لے آئیں''۔ اِنْسَان:ج:اَنَاسِیْ۔یہ مذکر ومؤنث سب کے لئے آتا ہے ۔
اَلْاِنْسَانُ الْمِثالِی:
ایساانسان جو اپنی مخصوص کسبی صلاحیتوں کی بناء پر عام انسانوں سے فائق وبرتر ہو۔
8۔۔۔۔۔۔
فَلَیْتَ لِیْ بِھِمْ قَوْمًا اِذَا رَکِبُوْا شَدُّوا الْاِغَارَۃَ فُرْسَانًا وَرُکْبَانَا
ترجمہ:
کاش میرے لئے ان کے بدلے ایسی قوم ہوتی جو اونٹو ں اور گھوڑوں پر سوارہوکر غارت گری کرتی۔
اگر جواں ہوں میری قوم کے جسور وغیّور
قلندری میری کچھ کم سکندری سے نہیں
رکب الشیءَ وعلیہ وفیہ(س) رُکُوْبًا:
( فَاِذَا رَکِبُوۡا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ) [عنکبوت:65]