شاعرکا تعارف:
شاعرکانام عروہ بن یحیی بن مالک بن حارث لیثی ہے (متوفی130ھ /747ء)یہ مدینہ منورہ کے شعراء میں سے اسلامی شاعرہیں،ا ن کاشمار فقہاء ومحدثین میں ہوتاہے نیزامام مالک بن انس رحمہ اﷲتعالی نے ان سے احادیث روایت کی ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔
اِنَّ التِّیْ زَعَمَتْ فُؤَادَکَ مَلَّھا خُلِقَتْ ھَوَاکَ کَمَا خُلِقْتَ ھَوًی لھا
ترجمہ:
بے شک جس محبوبہ نے خیال کیاکہ تیرادل اس سے اکتاگیاہے وہ تیری محبوبہ پیداکی گئی ہے جس طرح تواس کامحبوب پیداکیاگیاہے۔
2۔۔۔۔۔۔
بَیْضاءُ بَاکَرَھَا النَّعِیْمُ فَصَاغَھَا بِلَبَاقَۃٍ فَاَدَقَّھا وَاَجَلَّھا
ترجمہ:
وہ گوری، جس کے پاس صبح کے وقت نعمتیں آئیں تو انہوں نے بڑی مہارت سے اسے ڈھالا یعنی باریک اورموٹابنایا۔
مطلب:
جن اعضاء میں باریکی اورپتلاپن اچھالگتاہے مثلاکمر،ناک وغیرہ انہیں پتلا بنایااورجن اعضاء میں چوڑائی و کشادگی اچھی لگتی ہے مثلاسینہ،آنکھیں وغیرہ انہیں کشادہ بنایا۔
3۔۔۔۔۔۔
حَجَبَتْ تَحِیَّتَھا فقلتُ لِصاحِبِیْ ما کان اَکثرَھا لَنا وَاَقَلَّھا
ترجمہ:
محبوبہ نے اپناسلام بندکردیاتو میں نے اپنے دوست سے کہا:ہم سے کس قدراس کاسلام زیادہ تھااوراب کتناکم کردیا۔
4۔۔۔۔۔۔
واذا وَجَدْتُّ لَھا وَسَاوِسَ سَلْوَۃٍ شَفَعَ الضَّمِیْرُ اِلَی الْفُؤَادِ فَسَلَّھا