Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
317 - 324
وقال أبوصَخْرٍ اَلْھُذَلِیُّ (الطویل)
شاعر کاتعارف:

    شاعر کانام ابو صخرعبد اللہ بن سلمہ ہذلی ہے(متوفی80ھ/700ء)یہ اموی دور کے اسلامی شاعر ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔

         اَمَا وَالَّذِیْ اَبْکٰی واَضْحَکَ وَالَّذِیْ              اَماتَ واَحْیَا وَالَّذِیْ اَمْرُہُ الْاَمْر
ترجمہ:

    سنو!قسم ہے اس کی جورلاتااور ہنساتاہے اورجومارتااورزندہ کرتاہے اورحقیقت میں جس کا حکم ہی حکم ہے۔
2۔۔۔۔۔۔

        لقد تَرَکَتْنِیْ اَحْسُدُ الْوَحْشَ اَنْ اَرٰی               اَلِیْفَیْنِ منھا لا یَرُوْعُھُمَا الذُّعْر،
ترجمہ:

    محبوبہ نے میرایہ حال کردیاکہ میں جنگلی جانوروں پر رشک کرتاہوں جب ان میں سے دومحبت کرنے والوں کو دیکھتا ہوں کہ خوف انہیں نہیں ڈراتا۔

حل لغات:

    الذُّعْرُ:خوف وگھبراہٹ۔
3۔۔۔۔۔۔

         فیا حُبَّھا زِدْنِیْ جَوًی کُلَّ لَیْلَۃٍ                    ویا سَلْوَۃَ الْاَیَّامِ مَوْعِدُکِ الْحَشْر،
ترجمہ:

    اے محبوبہ کی محبت!ہررات آتش ِعشق بڑھااوراے زمانے کی بے رخی!تجھ سے حشر میں ملاقا ت ہو گی ۔ 

حل لغات:

    جَوًی:غم وعشق کے باعث پیداہونے والی سوزش وجلن،سینہ کی ایک بیماری،بیماری کاکھنچ جانا، ۔
4۔۔۔۔۔۔

        عَجِبْتُ لِسَعْیِ الدھرَ بینی وبینھا                فلمَّا انْقَضٰی مابیننا سَکَنَ الدھر
ترجمہ:        مجھے تعجب ہوا میرے اور محبوبہ كے درمیان زمانے كی كوشش پر  جب ہماری جدائی ہوگئی تو زمانہ خاموش ہوگیا۔
Flag Counter