ترجمہ:
اس شام کہ مقام غرب میں جوٹھہرے ان میں کوئی بھی مستقل طورپر ٹھہرنے والانہیں اورنہ ہی چلے جانے والوں میں کوئی جلد باز ہے۔وقال الحسینُ بْنُ مُطَیْرٍ الْاَسَدَیُّ (الطویل)
شاعر کاتعارف:
شاعر کانام حسین بن مطیر اسدی ہے(متوفی169ھ/785ء)اور یہ اموی اور عباسی دور کے مخضرمی شاعر ہیں۔1۔۔۔۔۔۔
لقدکنتُ جَلْدًا قَبْلَ اَنْ تُوْقِدَ النَّوٰی عَلٰی کَبِدِیْ جَمْرًا بَطِیًّا خُمُوْدُھاترجمہ:
میں طاقتور نوجوان تھامیرے جگر پرایسی آگ بھڑکنے سے پہلے جودیرسے بجھتی ہے۔اس درد کے موسم نے عجب آگ لگائی جسموں میں دہکتے ہیں گلاب اور طرح کے
حل لغات:
جَمْرٌ:وجِمَارٌ وجَمَرَاتٌ:انگارہ۔چھوٹی کنکری ۔سخت اندھیرا۔''جَمْرًا''ابوعلی احمد مرزوقی کے نسخے میں ''نارًا''ہے۔2۔۔۔۔۔۔
وقدکنتُ اَرْجُوْا اَنْ تَمُوْتَ صَبَابَتِیْ اِذَا قَدُمَتْ ایَّامُھا وعُھُوْدُھاترجمہ:
میں امیدکرتاتھاکہ جب محبت کے دن اور زمانہ پراناہوجائے گاتو میری سخت محبت ختم ہوجائے گی۔3۔۔۔۔۔۔
فقد جَعَلَتْ فِی حَبَّۃِ القلبِ وَالْحَشَا عِھادَ الْھَوٰی تُوْلٰی بِشَوْقٍ یُعِیدُھا