Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
314 - 324
                           قال آخر (البسیط)
1۔۔۔۔۔۔

       یومَ ارْتَحَلْتُ بِرَحْلِی قبلَ بَرْذَعَتِیْ            وَالعقلُ مُتَّلِہٌ وَالقلبُ مَشْغُوْل،
ترجمہ:

    جس دن میں نے اپنے اونٹ پرعرق گیرسے پہلے کجاوا کسااس حال میں کہ شدت غم کی وجہ سے عقل ختم ہونے کے قریب اور دل مشغول تھا۔

حل لغات:

    بَرْذَعَۃٌ:وَالبَردَعَۃُ:جانور کی پیٹھ پر ڈالاجانے والا کپڑا،عرق گیر۔ مُتَّلِہٌ:فا(افتعال)اِتَّلَہَ:بہت زیادہ غمگین ہونا یہاں تک کہ عقل زائل ہونے کے قریب ہوجا ئے ،شدت غم کی وجہ سے متحیر ہونا۔
2۔۔۔۔۔۔

       ثم انْصَرَفْتُ اِلٰی نِضْوِیْ لِاَبْعَثَہ،                 اِثْرَ الْحُدُوْجِ الْغَوادِیْ وَھو مَعْقُوْل،
ترجمہ:

    پھرمیں اپنے لاغراونٹ کی طرف پھراتاکہ اسے صبح کے وقت جانے والی سواریوں کے پیچھے چلنے پرابھاروں؛ حالانکہ وہ بندھا ہواتھا۔

مطلب:

    ان اشعارمیں شاعراپنی مدہوشی کوبیان کررہاہے کہ محبوبہ کے ساتھ جانے کے شوق میں معاملات کی ترتیب ہی بھول گیایعنی پہلے عرق گیررکھناتھالیکن وہ یادہی نہیں رہا اورشوق و عجلت میں اونٹ کوکھولنابھول گیااوربندھے ہوئے اونٹ کو ہانکنا شروع کردیا۔

حل لغات:

    نِضْوٌ:دبلا،تھکاماندہ جانور۔الْحُدُوْجُ:مف:اَلحِدْجُ:بوجھ۔عورتوں کی سواری کی ہودج۔
        	     وقال جِرَانُ الْعَوْدِ (الطویل)
1۔۔۔۔۔۔

          اَیَا کَبِدًا کادَتْ عَشِیَّۃَ غُرَّبٍ              مِنَ الشَّوْقِ اِثْرَ الظَّاعِنِیْنَ تَصَدَّع،
ترجمہ:

    اے لوگو!مقام غرب کی شام کوچ کرنے والوں کے پیچھے شوق سے میراجگرٹکڑے ٹکڑے ہو نے کے قریب ہے۔
Flag Counter