| دِيوانِ حماسه |
1۔۔۔۔۔۔
فَیَارَبِّ اِنْ اَھْلِکْ ولم تُرْوِ ھَامَتِی بِلیلٰی اَمُتْ لا قبرَ اَعْطَشُ مِنْ قبرِیترجمہ:
اے میرے رب!اگرمیں اس حال میں مرگیاکہ تونے آبِ لیلی سے مجھے سیراب نہ کیاتومیں اس حال میں مروں گاکہ میری قبرسے زیادہ کوئی قبرپیاسی نہیں ہوگی ۔ پکارتے ہیں یہ لب خشک ساحلوں کی طرح
کب آئے گا کوئی برکھا بادلوں کی طرح2۔۔۔۔۔۔
وَاِنْ اَکُ عن لیلی سَلَوْتُ فاِنَّما تَسَلَّیْتُ عن یَاْسٍ ولم اَسْلُ عن صَبْرٖترجمہ:
اگرمیں نے لیلی سے بے رخی کی ہے تومایوسی کی وجہ سے بے رخی کی ہے نہ کہ صبر کرتے ہوئے ۔ اب بجز ترک ِ وفا کوئی خیال آتا نہیں
اب کوئی حیلہ نہیں شاید دل ِ ناداں کے پاسحل لغات:
سَلَوْتُ:سَلا الشیء وعنہُ(ن)سَلْوًا:
بھول جانا۔تسلی پانا۔بے غم ہونا۔
3۔۔۔۔۔۔
واِنْ یَّکُ عن لیلی غِنًی وتَجَلُّدٌ فَرُبَّ غِنٰی نَفْسٍ قریبٍ مِنَ الفقرٖترجمہ:
اگرمیں نے لیلی سے بے نیازی اورصبر واستقامت اختیارکیاہے توکبھی نفس کی بے نیازی محتاجی کے قریب ہوتی ہے۔(شرح مرزوقی ج:2،ص859 بیروت)
مطلب:
جب میں مایوس ہوگیاتوبے رخی کرنے لگاورنہ بخوشی محبوبہ کونہیں چھوڑا۔
حل لغات:
تَجَلُّدٌ:اظہار صبر کرنا،مضبوطی دکھانا۔