ترجمہ:
میں آنکھ کواس کے کھنڈرات دیکھنے سے روکتاہوں ؛کیونکہ جب تیری آنکھ کھنڈرات دیکھ لے گی تو آنسو بہائے گی۔
جہاں ویرانہ ہے پہلے کبھی آباد گھریاں تھے
کبھی یاں قصروایواں تھے چمن تھے اور شجریاں تھے
حل لغات:
اُخادِعُ:(مفاعلۃ)خادعہ، :دھوکہ دینا ،دھوکہ دینے کی کو شش کرنا۔ العینَ:آنکھ کو دھو کہ دینا،آنکھوں دیکھی بات میں شک ڈالنا۔فی القران المجید:
(إِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ یُخَادِعُونَ اللّہَ وَھُوَ خَادِعُہُمْ)(4/142)
اَطَلالٌ:مف:اَلطَّلَلُ:کھنڈر،مکانات کے بچے کھچے آثارونشانات ۔ پانی کی سطح۔
3۔۔۔۔۔۔
عَھِدْتُّ بِھا وَحْشًا علیھا بَرَاقِعٌ وَھٰذِی وُحُوْشٌ اَصْبَحَتْ لم تُبَرْقِع
ترجمہ:
میں نے وہاں پردہ نشین حسیناؤں سے ملاقات کی اوریہ ایسے جنگلی جانورہیں جوپردہ نہیں کرتے۔
مطلب:
یعنی ان کھنڈرات میں میں نے حسین وجمیل محبوبہ سے ملاقات کی تھی اور اب یہاں صرف جنگلی جانور نظر آرہے ہیں۔ اس شعرمیں شاعرنے محبوبہ کوجنگلی جانوروں سے تشبیہ دی ہے اوروجہ تشبیہ شوخئ طبع ہے۔
جہاں اب خاک پر ہیں نقش پائے آہوئے صحراء
کبھی محو ِ تماشہ دید ۀ اہل ِ نظر یاں تھے
وَحْشٌ:ووُحُوْش:مف:وَحْشِیٌّ:
جنگلی جانور،درندے (مذکر و مؤنث)فی القرآن المجید:
(وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ)۔ (81/5)
بَرَاقِع:مف:اَلبُرْقَعُ:نقاب،برقع۔چوپائے کامنہ بند۔