Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
311 - 324
تصور سے کلیجہ پھٹ نہ جائے لہذاپرانی یادیں چھوڑ دو۔
پڑے ہیں سوزِمحبت سے دل پہ جتنے داغ 

ستارے اتنے نہ ہوویں گے آسماں کے لئے
وقال آخر (الطویل)
1۔۔۔۔۔۔

          ونُبِّئْتُ لَیْلٰی اَرْسَلَتْ بِشَفَاعَۃٍ                 اِلَیَّ فھَلَّا نَفْسُ لیلٰی شَفِیْعُھا
ترجمہ:

    مجھے خبردی گئی ہے کہ لیلی نے میرے پاس سفارشی بھیجاہے لیلی خودسفارشی بن کرکیوں نہیں آئی۔
اپنے بیمار  محبت کی  عیادت  کے لئے

توجو آتاتونہ آتاتیری کچھ شان میں فرق
2۔۔۔۔۔۔

     	أَکْرَمُ مِنْ لیلیٰ علیَّ فَتَبْتَغِی                  بِہِ الْجاہَ اَمْ کنتُ امْرَءً لا اُطِیْعُھا
ترجمہ:

    کیاوہ میرے ہاں لیلی سے زیادہ معزز ہے کہ لیلی اس کے ذریعے مقام ومرتبہ چاہتی ہے یامیں ایساشخص ہوں کہ لیلی کی بات نہیں مانوں گا۔

مطلب:

    میری محبوبہ لیلی نے اپنی کوتاہیوں کی تلافی کے لئے دوسرے شخص کومیرے ہاں سفارشی بناکر بھیجا ہے اگرلیلی خود چل کر آتی تومجھے زیادہ خوشی ہوتی۔

حل لغات:

    اَلْجاہُ:مرتبہ،حیثیت،پوزیشن۔
وقالَ ابْنُ الدُّمَیْنَۃِ (الطویل)
شاعرکاتعارف:

    شاعر کانام عبد اللہ بن عبیداللہ بن دمینہ ہے (متوفی 130ھ/747ء)اوریہ اموی دور کے اسلامی شاعر ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔

           اَمَا یَسْتَفِیْقُ القلبُ اِلَّا انْبَرٰی لہ               تَوَھُّمُ صَیْفٍ مِنْ سُعادَ وَمَرْبَعٖ
ترجمہ:

    دل کوآرام صرف اسی وقت ملتاہے جب ''سعاد ''کے ساتھ موسم گرمااورموسم بہارگزارنے کا تصور آتاہے۔
مجھے  تنہائی  میں تنہا  نہیں رہنے دیتے           چند  لمحے جو  کبھی ساتھ گذارے تیرے

وہ قرب کے لمحات اگر بھول بھی جائیں            برسوں ہمیں تڑپائے گی احساس کی خوشبو
Flag Counter