5۔۔۔۔۔۔
لٰکِنَّ قَوْمِیْ وَاِنْ کَانُوْا ذَوِیْ عَدَدٍ لَیْسُوْا مِنَ الشَّرِّ فِیْ شَیْءٍ وَاِنْ ھَانَا
ترجمہ:
میری قوم اگر چہ بڑی تعداد والی ہے لیکن جنگ میں کچھ بھی نہیں اگر چہ آسان ہو ۔
مطلب:
اس شعر سے آخر ی شعرتک اپنے قبیلے کے اوصاف بیان کر رہا ہے،یعنی میرا قبیلہ جنگ پر امن و صلح کو ترجیح دے دیتاہے اور ہر کسی کو معاف کردیتاہے۔
حل لغات:
لٰکِنَّ:حرف مشبہ با لفعل ہے اور استدراک کے معنی کے لئے استعمال کیاجاتا ہے، یعنی یہ اپنے ماقبل کے حکم کے خلاف ثابت کر تاہے اس لئے ضروری ہے کہ اس سے پہلے ایساکلام ہو جو مابعد کے مخالف ہو یا اس کی ضد ہو ،ایک قول کے مطابق یہ ''اِنَّ''کی طرح تاکید کے لئے آتاہے ۔اس لفظ کے بارے میں بعض نے کہا:کہ یہ بسیط ہے جب کہ امام فراء کے نزدیک یہ لٰکِنْ اور ''اِن"سے مرکب ہے اور ''اِنَّ''کا ہمزہ تخفیفاً حذف کردیاگیاہے اور بسا اوقات یہ
''مُخَفَّفَۃْ مِنَ المُثَقَّلَۃْ
ہوتاہے۔اَلْعَدَدُ:شمارکئے ہوئے کی مقدار ،جماعت ۔
(فَسَیَعْلَمُوۡنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا )
ترجمہ کنزالایمان:''کس کے مددگار کمزوراور کس کی گنتی کم''۔ [الجن :24] لَیْسُوا:مف:لَیْسَ:یہ فعل غیر متصرف ہے ۔اس کا وزن فَعِلَ تھا پھر عین کلمہ کو تخفیفاً لزوماً ساکن کر دیا گیا۔ ایک قول کے مطابق اس کی اصل ''لَا اَیْسَ''ہے ، ہمزہ کو ساقط کر دیاگیا ۔
( لَیۡسُوۡا سَوَآءًؕ مِنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ )
ترجمہ کنزالایمان:''سب ایک سے نہیں کتابیوں میں''۔[آل عمران:113]
شَیْئٌ:شَاءَ ہ،(ف)شَیْئًا:
ارادہ کرنا،چاہنا۔عَلَی الامْرِ:کسی بات پر آمادہ کرنا ، اکسانا۔
شَیْء کی تعریف کرتے ہوئے سید شریف جرجانی لکھتے ہیں:
اَلشَّیْءُ فِی اللُّغَۃِ:ھُوَ مایَصِحُّ اَنْ یُّعْلَمَ وَیُخْبَرَ عَنْہُ عِنْدَ سِیْبَوَیْہِ، وقِیْلَ:اَلشَّیْءُ عِبَارَۃٌ عَنِ الوُجُوْدِ، وھوَ اسْمٌ لِجَمِیْعِ الْمُکوِّنَاتِ، عرضًا کان اوجوھرًا ویَصِحُّ اَنْ یُّعْلَمَ ویُخْبَرَ عَنْہُ۔ وَفِی الْاِصْطِلاحِ:ھُوَ الْمَوْجُوْدُ الثَّابِتُ الْمُتَحَقَّقُ فِی الْخَارِجِ۔
سیبویہ کے نزدیک لغوی اعتبار سے ''شَیْئ''اسے کہتے ہیں جس کے بارے میں جانا جا سکے اور اس کے بارے