Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
30 - 324
حل لغات:
     یَسْأَلُوْنَ:سَأَلَہٗ عَنْ کَذا وبِکذا(ف)سُؤَالًا
:پوچھنا،معلوم کرنا ۔
فلانا الشیئَ:
کوئی چیز مانگنا۔
فی القرآن المجید:
 ( لَا یَسْئَلُوۡنَ النَّاسَ اِلْحَافًاؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنْ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ )
ترجمہ کنز الایمان:''لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑ گڑانا پڑے اور تم جو خیرات کرو اللہ اسے جانتا ہے''۔[البقرۃ:273] عربی مقولہ ہے:
سَائِلُ اﷲ ِلَا یَخِیْبُ:
اﷲسے مانگنے والامحروم نہیں رہتا۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
     تَسْأَلُنِیْ اُمُّ الْخِیارِجَمَلاً          یَمْشِیْ رُوَیْدًا وَیَکُوْنُ اَوَّلا
ترجمہ:

     ام خیار مجھ سے ایسااونٹ مانگتی ہے جو چلے آہستہ اورآئے پہلے نمبر پر ۔یعنی دشوار چیز مانگتی ہے۔

اَخٌ:بھائی،دوست ،ساتھی،قوم کاایک فرد ۔
( وَ اِلٰی مَدْیَنَ اَخَاہُمْ شُعَیۡبًا )
ترجمہ کنز الایمان:''اور مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو''۔ [ھود:84] عربی مقولہ ہے :
رُبَّ اَخٍ لَمْ تَلِدْہُ وَالِدَۃٌ:
یعنی بہت سے بھائی ایسے ہوتے ہیں جو ماں جائے نہیں ہوتے ۔حِیْن:موقع ،وقت(زمانہ کا ایک حصہ)کم ہو یا زیادہ ۔کہتے ہیں:حَیْنَئِذٍ:جس وقت ،زمانہ ۔
ج:اَحْیانٌ۔
 ( وَلَکُمْ فِی الۡاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتٰعٌ اِلٰی حِیۡنٍ﴿۳۶﴾ )
ترجمہ کنزالایمان:''ایک وقت تک زمین میں ٹہرنا اور برتنا ہے''۔[البقرۃ:36]  اَلْحَیْنُ:موت، ہلاکت،آزمائش و مصیبت ۔عربی مقولہ ہے :
اِذاحَانَ الحَیْنُ حارَتِ الْعَیْنُ۔
جب ہلاکت قریب ہوجاتی ہے تو آنکھ دیکھنا بند کردیتی ہے ۔
یَنْدُبُ:نَدَبَ فُلانٌ اِلٰی اَمْرٍ (ن)نَدْبًا:
کسی کام کی دعوت دینا،اس پر آمادہ کرنا،اس پر مأمور کرنا،کسی کام کے لیے نمائندہ بنانا ۔المَیِّتَ:مردے کے محاسن بیان کرکے رونا۔
اَلنَّائِبات:مف:نَائِبَۃٌ:
آفت، مصیبت ، حوادث خواہ خیر ہوں یاشر۔
نَوائِبُ الرَّعِیَّۃِ:
پلوں اور سڑکوں کی تعمیر کے لئے شاہی ٹیکس۔ 

    قالَ:(ن)قَوْلًا:کہنا،بولنا۔مجازا ً قول کو اظہارحال کیلئے بھی استعمال کیا جاتاہے اس صورت میں فاعل غیر متکلم شئ ہوتی ہے جیسے :
قالتْ لہُ العَینانِ:
آنکھوں سے معلوم ہوا ، آنکھوں کا حال ایسا بتارہاتھا ۔ بِرَاْئسِہٖ:سر سے اشارہ کرنا۔لَہٗ:کسی سے کچھ کہنا،بات کرنا۔عَلَیْہِ:کسی کے خلاف بولنا،کسی پر بہتان باندھنا، الزام لگانا۔عَنْہُ:کسی کے متعلق خبر دینا،کسی کی طرف سے کچھ کہنا۔فِیْہِ:کسی چیزمیں کوشش کرنا۔کسی کے بارے میں کوئی بات کہنا۔بِہٖ:کسی بات کا قائل ہونا،اس کا نظریہ اور عقیدہ رکھنا،رائے رکھنا۔قول کے بعد قائل کا جملہ بطور حکایۃ بلفظہٖ ذکر کیا جاتاہے ۔جیسے:
قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اﷲِ
اور معنًی بھی ذکر کیا جاتاہے ۔جیسے:
قَالَ اَنَّہ، عَبْدُ اﷲِ۔
دونوں صورتوں میں جملہ پر''قال''کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوگا۔قول کبھی''ظن''کے معنی میں بھی آتاہے اس وقت اپنے بعد مبتدا ءاور خبر کو نصب دیتاہے۔ جیسے:
اَتَقُولُ المُسافِرَ قَادِمًا الیَوْمَ
(کیا تمہارا خیال ہے مسافر آج آئے گا ؟)
( وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرْضِ
Flag Counter