ترجمہ کنزالایمان:''ایک وقت تک زمین میں ٹہرنا اور برتنا ہے''۔[البقرۃ:36] اَلْحَیْنُ:موت، ہلاکت،آزمائش و مصیبت ۔عربی مقولہ ہے :
اِذاحَانَ الحَیْنُ حارَتِ الْعَیْنُ۔
جب ہلاکت قریب ہوجاتی ہے تو آنکھ دیکھنا بند کردیتی ہے ۔
یَنْدُبُ:نَدَبَ فُلانٌ اِلٰی اَمْرٍ (ن)نَدْبًا:
کسی کام کی دعوت دینا،اس پر آمادہ کرنا،اس پر مأمور کرنا،کسی کام کے لیے نمائندہ بنانا ۔المَیِّتَ:مردے کے محاسن بیان کرکے رونا۔
اَلنَّائِبات:مف:نَائِبَۃٌ:
آفت، مصیبت ، حوادث خواہ خیر ہوں یاشر۔
نَوائِبُ الرَّعِیَّۃِ:
پلوں اور سڑکوں کی تعمیر کے لئے شاہی ٹیکس۔
قالَ:(ن)قَوْلًا:کہنا،بولنا۔مجازا ً قول کو اظہارحال کیلئے بھی استعمال کیا جاتاہے اس صورت میں فاعل غیر متکلم شئ ہوتی ہے جیسے :
قالتْ لہُ العَینانِ:
آنکھوں سے معلوم ہوا ، آنکھوں کا حال ایسا بتارہاتھا ۔ بِرَاْئسِہٖ:سر سے اشارہ کرنا۔لَہٗ:کسی سے کچھ کہنا،بات کرنا۔عَلَیْہِ:کسی کے خلاف بولنا،کسی پر بہتان باندھنا، الزام لگانا۔عَنْہُ:کسی کے متعلق خبر دینا،کسی کی طرف سے کچھ کہنا۔فِیْہِ:کسی چیزمیں کوشش کرنا۔کسی کے بارے میں کوئی بات کہنا۔بِہٖ:کسی بات کا قائل ہونا،اس کا نظریہ اور عقیدہ رکھنا،رائے رکھنا۔قول کے بعد قائل کا جملہ بطور حکایۃ بلفظہٖ ذکر کیا جاتاہے ۔جیسے:
قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اﷲِ
اور معنًی بھی ذکر کیا جاتاہے ۔جیسے:
قَالَ اَنَّہ، عَبْدُ اﷲِ۔
دونوں صورتوں میں جملہ پر''قال''کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوگا۔قول کبھی''ظن''کے معنی میں بھی آتاہے اس وقت اپنے بعد مبتدا ءاور خبر کو نصب دیتاہے۔ جیسے: