2۔۔۔۔۔۔
فَمَا حَسَنٌ اَنْ تَأتِیَ الْاَمْرَطَائِعًا وَتَجْزَعَ اَنْ دَاعِی الصَّبَابَۃِ اَسْمَعَاترجمہ:
تویہ اچھی بات نہیں کہ تُو بخوشی کوئی کام کرے اورگھبراجائے اس سے کہ محبت کوبلانے والااپنی بات سنائے۔
مطلب:
تُوبخوشی محبوبہ سے دورہوااب اگرآتش عشق تجھے بے تاب کررہی ہے تو صبر کر ۔ اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیاغم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں3۔۔۔۔۔۔
قِفَا وَدِّعَا نَجْدًا وَمَنْ حَلَّ بِالْحِمٰی وَقَلَّ لِنَجْدٍ عِنْدَنَا اَنْ یُّوَدَّعَاترجمہ:
ٹھہرو!نجداورمقام حمی میں رہنے والے کو الوداع کہلواورہمارے ہاں نجدکوکم ہی الوداع کہا جاتا ہے ۔4۔۔۔۔۔۔
بِنَفْسِی تِلْکَ الْاَرْضُ مَا اَطْیَبَ الرُّبَا وَمَا اَحْسَنَ الْمُصْطَافَ وَالْمُتَرَبِّعَاترجمہ:
میری جان قربان!اس زمین پرکتنے اچھے ہیں اس کے ٹیلے اور کتنی پیاری ہے موسم گرما اورموسم بہار گزارنے کی جگہ۔
حل لغات:الرُّبَا:مف:اَلرُّبْوَۃُ وَالرَّبْوَۃُ والرِّبْوَۃُ:
ٹیلہ۔
فی القران المجید:
(کَمَثَلِ جَنَّۃٍ بِرَبْوَۃٍ أَصَابَہَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُکُلَہَا ضِعْفَیْنِ)(2/265)
الْمُصْطَاف:گرمی کاموسم گزارنے کی جگہ ۔اَلصَّیْفُ:گرمی کاموسم۔
(لِإِیْلَافِ قُرَیْشٍ إِیْلَافِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَاء وَالصَّیْفِ) (106/1،2)
ج:اَصْیَافٌ وَصُیُوْفٌ۔
5۔۔۔۔۔۔
فَلَیْسَتْ عَشِیَّاتُ الْحِمٰی بِرَوَاجِعٍ اِلَیْکَ وَلٰکِنْ خَلِّ عَیْنَکَ تَدْمَعَاترجمہ:
مقام حمی کی شامیں تیرے پاس لوٹ کرنہیں آئیں گی لیکن اپنی آنکھوں کو آنسو بہا نے دے (تاکہ غمِ دل ہلکاہو) وہ پھول سے لمحے بھاری ہیں یادوں کی ناز ک شاخوں پر
جو پیار میں میں نے سونپے تھے آغاز میں اک دیوانے کو