| دِيوانِ حماسه |
نسیب:
عورت کے حسن وجمال کو ذکر کرنااور عورت کی محبت کی وجہ سے ''عاشق'' پر جوبیتی اس کی خبر دینا۔نسیب کہلاتا ہے۔
غزل:
عورتوں کے ساتھ محبت کے قصوں کو اور ان کی طرف دل میں پیدا ہونے والے میلان کو بیان کرنا۔غزل کہلاتا ہے۔وقال الصِّمَّۃُ بْنُ عَبْدِ اﷲِالْقُشَیْرِیُّ (الطویل)
شاعر کا تعارف:
شاعرکانام صمہ بن عبداﷲبن طفیل قشیری ہے(متوفی 5 9ھ/714ء)اور یہ اموی دور کے اسلامی شاعر ہیں۔
اشعار کا پس منظر:
شاعرکواپنے چچاکی بیٹی سے محبت تھی ا نہوں نے اپنے چچاسے رشتہ طلب کیاتو ان کے چچا نے کہا:'' 100''اونٹ دو تو تمہیں رشتہ دوں گا ورنہ نہیں۔جب یہ چچا کے پاس اونٹ ہانک کر لائے ، چچا نے اونٹ گنے تو''100''اونٹ پورے نہیں تھے اس پر اس نے کہا:میں تو پورے''100''اونٹ لوں گا،چچا کے اس رویے پر شاعر کے باپ نے اپنے بھائی پرناراضگی کااظہار کرتے ہوئے قسم کھائی کہ میں تواس سے زیادہ کچھ نہیں دوں گا،جب ضدبازی میں مسئلہ حل نہیں ہوا تو شاعرمایوس ہوکراپنی اونٹنی پر سوار ہوکر پہاڑوں میں چلاگیا اور اپنی باقی زندگی وہیں گذاردی ؎
حسرت ان غنچوں پرجو بن کھلے مرجھاگئے 1۔۔۔۔۔۔
حَنَنْتَ اِلٰی رَیَّا وَنَفْسُکَ بَاعَدَت مَزَارَکَ مِنْ رَّیَّا وَشَعْبَا کُمَا مَعَاترجمہ:
تو''ریّا''کامشتاق ہوامگر تیرے نفس نے ہی تجھے ریّاکی زیارت کے مقام سے دورکردیا؛حالانکہ تمہارے قبیلے ایک ہی جگہ رہ رہے تھے۔زعم چاہت کا تھا دونوں کو مگرآخر ِ کار آگئی بیچ میں دیوار من و تو والی
فائدہ:
بَاعَدَت:بَعَّدَتْ کے معنی میں ہے۔اور باب مفاعلۃ ،تفعیل کے معنی استعمال ہوتا ہے جیسے کہتے ہیں:ضَاعَفَتْ