| دِيوانِ حماسه |
ترجمہ:
جب میں اپنے وطن واپس آتا ہوں تو اپنے دوست کونہیں پاتا جب کہ شہرویسے ہی ہوتے ہیں۔وقال ربیعۃ بن مقروم (الوافر)
شاعر کا تعارف:
شاعر کانام ربیعۃ بن مقروم ہے اوریہ مخضرمی شاعر ہے انہوں نے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں پائے اور دولتِ ایمان سے مشرف ہوکر دونوں جہاں کی سعادتیں حاصل کیں۔
اشعار کا پس منظر:
انہوں نے اپنی اونٹنی عمرو نہشلی کو بیچی ، نہشلی کو صابی بن حارث نے ثمن اداکرنے سے منع کیاتھاجب شاعرنے نہشلی کے ہاں صابی کودیکھاتو اس پر تعریض کرتے ہوئے یہ اشعار کہے ۔1۔۔۔۔۔۔
وَکَمْ مِّنْ حامِلٍ لی ضَبَّ ضِغْنٍ بَعِیْدٍ قلبُہُ حُلْوِ اللِّسانترجمہ:
اورکتنے ہی میرے کینہ ورہیں جن کادل(محبت سے)دورہے اورشیریں زباں ہیں۔
حل لغات:
ضَبَّ:الرَّجُلُ(ض)ضَبًّا:غصہ ہونا،کینہ رکھنا۔علی مافی نفسہ:دل کی با ت چھپانا۔ ضِغْن:سخت چھپی ہوئی دشمنی ، زبردست کینہ ۔فی القرآن المجید:(أَن لَّن یُخْرِجَ اللَّہُ أَضْغَانَہُم)(47/31)
جھکاؤ۔ بغل، گود۔ جانب، پہاڑ کا پہلو ۔ ج:اَضْغَانٌ۔ بَعِیدٍ:بیروت کے نسخے میں''طَوِیْلٍ''ہے۔
2۔۔۔۔۔۔
ولو اَنِّی اَشاءُ نَقَمْتُ مِنْہُ بِشَغْبٍ مِنْ لِّسانٍ تَیِّحانٖترجمہ:
اگرمیں چاہوں تواس سے فتنہ فساد کرکے یا زبان استعمال کرکے انتقام لوں ۔
حل لغات:
''مِنْ''ابوعلی احمد مرزوقی اور بیروت کے نسخے میں''أو''ہے۔ترجمہ اسی کے مطابق کیا ہے۔