3۔۔۔۔۔۔
لا تَغْبِطِ الْمَرْءَ اَنْ یُّقالَ لَہٗ اَمْسٰی فَلانٌ لِسِنِّہٖ حَکَمَا
ترجمہ:
کسی ایسے مردپر رشک نہ کرجس کے بارے میں کہاجائے کہ وہ بڑی عمرکی وجہ سے سرداربن گیا۔
فائدہ:
''اَمْسٰی فَلانٌ لِسِنِّہٖ ''ابوعلی احمد مرزوقی کے نسخے میں''أضحی فلان لعمرہ''اور بیروت کے نسخے میں''أضحی''ہے۔
4۔۔۔۔۔۔
اِنْ سَرَّہ، طُوْلُ عُمْرِہٖ فَلَقَدْ اَضْحٰی عَلَی الْوَجْہِ طُوْلُ ما سَلِمَا
ترجمہ:
اگرلمبی عمرنے اسے خوش کیاتویقینااس کے چہرے پرطویل زندگی نے (موت کے)آثار کو ظاہر کردیا۔
وقال ایاس بن القائف (الطویل)
1۔۔۔۔۔۔
تُقِیْمُ الرِّجالُ الْاَغْنِیَاءُ بِاَرْضِھم وَتَرْمِی النَّوٰی بِالْمُقْتَرِیْنَ الْمَرَامِیَا
ترجمہ:
امیرلوگ اپنے وطن میں رہتے ہیں اورمحتاجوں کو دوری جنگلوں میں پھینک دیتی ہے۔
مطلب:
امیری غربت سے بہترہے۔
2۔۔۔۔۔۔
فَاَکْرِمْ اَخَاکَ الدھرَ ما دُمْتُما مَعًا کَفٰی بِالْمَمَاتِ فُرْقَۃً وَتَنائِیَا
ترجمہ:
جب تک ایک ساتھ رہوہمیشہ اپنے بھائی کی تعظیم کرتے رہوجدائی اوردوری کے لئے موت کافی ہے۔