ترجمہ کنز الایمان:''بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں''۔[الرعد:11]
رشتہ دار ،نیم رشتہ دار،خاندانی لوگ ۔اَلشَّرُّ:برائی ،خرابی ،فساد،فتنہ ،بداخلاقی ، گناہ ، غنڈہ گردی، شرارت ۔ج:
شُرُوْرٌ۔(مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ)
ترجمہ کنزالایمان:''اس کے شر سے جو دل میں برے خطرے ڈالے اور دبک رہے ''۔[الناس:4] یہاں مراد جنگ ہے ۔ عربی مقولہ ہے:
شَرُّ اَیَّامِ الدِّیْکِ یَوْمٌ تُغْسَلُ رِجْلَاہُ:
مرغ کے لئے بدترین دن وہ ہے جس دن اس کے پاؤں دھوئے جائیں۔مرغ ذبح کرنے سے پہلے اس کے پاؤں دھوئے جا تے تھے ۔
اَبْدٰی:(اِفْعال)اَبْدَی الشَّیْءَ وَبہٖ :
ظاہر کرنا ۔مجرد سے بَدَا(ن)بُدُوًّا:ظاہر ہونا،روشن ہونا۔
(بَلْ بَدَا لَہُم مَّا کَانُواْ یُخْفُونَ مِن قَبْلُ)
ترجمہ کنزالایمان:''بلکہ ان پر کھل گیا جو پہلے چھپاتے تھے''۔[الانعام:28] نَاجِذَیْہِ:یہ'' نَاجِذٌ''کا تثنیہ ہے اضافت کی وجہ سے نون تثنیہ حذف ہوگیا۔
اَلنَّاجِذُ:داڑھ ۔ج :
نَوَاجِذ۔ فی الحدیث:((عضوا علیہ بالنواجذ))۔ طَارُوا:طَارَ الطَّائِرُ ونَحوُہ،(ض)طَیْرًا:
حرکت سے بازؤوں کا ہوا میں اٹھنا،اڑنا،پرواز کرنا۔نَفسُہ، شُعاعًا:طبیعت کابے چین وپریشان ہونا ۔
کسی چیز کی طرف لپکنا،اڑکریادوڑ کرجانا۔ زَرَافات:مف:زَرَافَۃٌ:دس یابیس افراد کی جماعت ۔ وُحْدَانٌ وَاُحْدانٌ: مف:وَاحِدٌ:اللہ تعالی کی صفت۔ ایک (حساب کا پہلا عدد)علم یاطاقت وغیرہ میں فائق وبے مثل،کسی چیز کاجز۔
( وَ اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وّٰحِدٌۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیۡمُ )
ترجمہ کنز الایمان:''اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان''۔[البقرۃ:163]
4۔۔۔۔۔۔
لَایَسْأَلُوْنَ اَخَاھُمْ حِیْنَ یَنْدُبُھُمْ فِی النَّائِبَاتِ عَلٰی مَاقَالَ بُرْھَانَا
ترجمہ:
وہ اپنے بھائی سے اس کے کہے پر دلیل نہیں پو چھتے جب وہ انہیں مصیبتوں میں پکارتاہے ۔