ترجمہ:
تحقیق میں نے طے کرلیا ہے کہ جب تیرے دروازے پر کوئی حاجت ہوگی تواسے دوسرے لوگوں سے طلب کروں گا۔
احساس مَر نہ جائے تو انسان کیلئے کافی ہے اک راہ کی ٹھوکر لگی ہوئی
اَدْلُو:دَلاَ حَاجَتَہ، (ن)دَلْوًا:
وقال شَبِیْبُ بْنُ الْبَرْصَاءِ الْمُرِيُّ (الطویل)
شاعر کا تعارف :
شاعرکانام شبیب بن یزید بن جمرہ مری ہے (متوفی 100ھ)اور یہ اسلامی شاعر ہیں۔ برصاء ان کی والدہ تھیں،کہتے ہیں کہ رسول اﷲ (فداہ روحی وجسدی )صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اسے نکاح کا پیغام بھیجااس وقت یہ صحیح سالم تھیں، ان کے والد حارث بن عوف نے کہا :وہ آپ کے شایان ِ شان نہیں؛ کیونکہ اسے برص کا عارضہ ہے ،پھرجب یہ گھر واپس آئے تو دیکھاکہ ان کی بیٹی برص کی بیماری میں مبتلا ہوچکی ہیں ۔شاعرنے عقیل بن علفہ کی ہجو کرتے ہوئے یہ اشعار کہے۔
1۔۔۔۔۔۔
واِنِّیْ لَتَرَّاکُ الضَّغِیْنَۃِ قد بَدَا ثَرَاھا مِنَ الْمَوْلٰی فلا اَسْتَثِیرُھا
ترجمہ:
بے شک میں اس کینے کوجس کا اثر میرے چچا زاد بھائی میں ظاہر ہواچھوڑ دیتاہوں اسے اچھالتا نہیں۔