Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
296 - 324
جائے توایسی صورت میں جہالت کا مظاہرہ ہی احلم ہے ؛
''فَاِنَّ صَدْ مَ الشَّرِّ بِالشَّرِّ اَقْرَبُ وَدَفْعَ الْجَہْلِ بِالْجَہْلِ اَحْلَمُ''۔
       ہے فلاح وکامرانی نرمی وآسانی میں        ہر  بنا کام  بگڑجاتا  ہے نادانی  میں
حل لغات:

    مَغَبَّۃٌ:انجام،خاتمہ ،نتیجہ۔کہتے ہیں
لِھٰذا الاَمْرِ مَغَبَّۃٌ طَیِّبَۃٌ:
اس کام کا انجام اچھاہے۔ تُشَمَّسَ:(تفعّل)دھوپ میں بیٹھنایاکھڑاہونا۔
وقال عِصَامُ بْنُ عُبَیْدٍ اَلزَّمَانِیُّ (البسیط)
شاعر کانام:

     عصام بن عبید زمانی ہے اوریہ اسلامی شاعر ہیں۔ شاعر نے ابو مسمع کو عتاب کرتے ہوئے یہ اشعار کہے۔
1۔۔۔۔۔۔

            اَبْلِغْ اَبَا مَسْمَعٍ عَنِّیْ مُغَلْغَلَۃً                   وَفِی الْعِتَابِ حَیَاۃٌ بِیْنَ اَقْوَامٖ
ترجمہ:

    میری طرف سے ابومسمع کو خط پہنچاؤاورقوموں کے درمیان عتاب میں زندگی ہے۔

نوٹ:

    اس شعرمیں دوسرامصرعہ جملہ معترضہ ہے اور خط کامضمون دوسرے شعرسے آخری شعرتک ہے۔

حل لغات:

    مُغَلْغَلَۃٌ:ایک شہرسے دوسرے شہرمیں جانے والاپیغام یاخط۔ العتاب:مص۔عَتَبَ علیہ(ن) عِتَابًا:ملامت کرنا۔ کسی سے اظہارناراضگی کرنا۔فہمائش کرنا،سرزنش کرنا،کسی سے تعلق یاکسی پرنازکرتے ہوئے اس لئے اظہارِ ناگواری کرنا تاکہ وہ اپنے اس فعل کی اصلاح کرلے جو باعث ناگواری ہوا۔خلیل کاقول ہے:عتاب اظہارِ ناراضگی اورتنبیہ ہے ۔عربی مقولہ ہے:''اَلْعِتابُ خیرٌ مِنْ مَّکْتُوْمِ الْحِقْدِ'':چھپے ہوئے کینے سے عتاب بہتر ہے ۔ ''مَنْ عَتَبَ عَلَی الدَّھْرِ طالَتْ مَعْتَبَتُہ،'':جو زمانے پر عتاب کریگا اس کاعتاب طویل ہوجائے گایعنی زمانہ کبھی تکلیف سے خالی نہیں ہوتااس لئے اس پر عتاب سے کبھی فراغت نہیں مل سکتی۔
2۔۔۔۔۔۔

           اَدْخَلْتَ قَبْلِیَ قَوْمًا لَمْ یَکُنْ لَّھُمْ            فِی الْحَقِّ اَنْ یَّدْخُلُوْا الْاَبْوَابَ قُدَّامِی
Flag Counter