Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
295 - 324
3۔۔۔۔۔۔

        وَلٰکِنْ اِذَا مَاحَلَّ کُرْہٌ فَسَامَحَتْ             بِہِ النَّفْسُ یومًا کانَ لِلْکُرْہِ اَذْھَبَا
ترجمہ:

    مگر جب کوئی ناگوار شے کسی دن آپڑے پھر طبیعت اسے قبول کرلے توطبیعت کااسے قبول کرلینا اس ناگوار شے کودور کردیتاہے۔

فائدہ:

     اَذْھَبَا:اس میں الف اشباع کا ہے اصل میں''اَذْھَب'' صیغۀ اسم تفضیل ہے، اس کا حق یہ تھا کہ أشدّ اِذْھابًا کہاجاتا؛ کیونکہ اس کا فعل ثلاثی نہیں ہے ۔اس کا جواب یوں ہوسکتا ہے کہ ''اَذْھَبَ''بحذف زوائد ہے ۔
 پی جا  ایام  کی تلخی  کوبھی  ہنس  کے ناصر     غم کے سہنے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے
وَقَالَ الْمَرَّارُ بْنُ سَعِیْدٍ (الطویل)
شاعرکاتعارف:

    شاعرکانام مرار بن سعید فقعسی ہے اوریہ اموی دور کے اسلامی شاعر ہیں۔مسور بن ہند کی ہجو کرتے ہوئے یہ اشعارکہے۔
1۔۔۔۔۔۔

       اِذَا شِئْتَ یَوْمًا اَنْ تَسُوْدَ عَشِیْرَۃً                    فَبِالْحِلْمِ سُدْ لا بِالتَّسَرُّعِ وَالشَّتْمٖ
ترجمہ:

    جب تو کسی دن قبیلے کا سردار بنناچاہے تو صبر وتحمل سے سردار بن نہ کہ جلد بازی اور گالی گلوچ سے۔
2۔۔۔۔۔۔

        ولَلْحِلْمُ خَیْرٌ فَاعْلَمَنَّ مَغَبَّۃً                    مِّنَ الْجَھْلِ اِلَّا اَنْ تُشَمِّسَ مِنْ ظُلْمٖ
ترجمہ:

    توجان لے کہ برد باری کا انجام جلد بازی سے بہتر ہوتاہے مگر یہ کہ ظلمًا تجھے دھوپ میں بٹھادیا جائے ۔

مطلب:

    سردار بننے کے بہت سے اسباب ہیں جیسے جلدبازی کو تر ک کردینا ،غصے کو پی جانا، نرمی اختیار کرنا، اپنی جان ، مال وغیرہ کے معاملے میں صبر وتحمل سے کام لیناوغیرہ توجس نے طلب ریاست و حصول سیادت میں ان اوصاف کواپنایا وہی سردار بننے کے لائق ہوتا ہے لہٰذا تو بھی اگرسردار بننا چاہتا ہے تو حلم وبرد باری اختیار کر۔ہاں !اگرتجھ پر ظلم کو سوار کردیا
Flag Counter