ترجمہ:
اورجب میں نے بڑھاپے کودیکھاکہ اس کی سفیدی میرے سرکی مانگ میں چمکی ہے تو میں نے بڑھاپے کو خوش آمدید کہا۔
کل آئینے نے بڑے دکھ کی بات مجھ سے کہی
فراز تو بھی ہے گزرے گئے زمانوں میں
حل لغات:
مَفْرِقٌ:من الرَّاْسِ:سرمیں بالوں کی مانگ،مانگ نکالنے کی جگہ۔
2۔۔۔۔۔۔
وَلَوْخِفْتُ اَنِّیْ اِنْ کَفَفْتُ تَحِیَّتِیْ تَنَکَّبَ عَنِّیْ رُمْتُ اَنْ یَّتَنَکَّبَا
ترجمہ:
اوراگرمجھے امید ہوتی کہ اگرمیں نے اسے خوش آمدید نہ کہا تو وہ مجھ سے منہ پھیرلے گا تومیں ارادہ کرتا کہ وہ پہلوتہی کرلے۔
فائدہ:
''خِفْتُ'' سے مرادعلم یارجاء ہے اورعرب رجاء اور خوف کو ایک دوسرے کی جگہ پر استعمال کرتے رہتے ہیں چنانچہ قرآن پاک میں ہے:
(إِنَّہُمْ کَانُوا لَا یَرْجُونَ حِسَابا)(78/27)
أي:لا یخافون۔ بیروت کے نسخے میں خفتکے بجائے خِلْتُ ہے ۔