Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
293 - 324
بَابُ الْاَدَبْ

قال مِسْکِیْنُ الدَّارِمِیُّ (الطویل)
شاعر کا تعارف:

    شاعر کا نا م ربیعہ بن عامربن أنیف (بیروت کے نسخے میں نام:ربیعہ بن انیف)دارمی ہے،مسکین ان کا لقب ہے (متوفی 89 ھ/708ء )اور یہ اموی دور کے اسلامی شاعرہیں۔
1۔۔۔۔۔۔

         وَفِتْیانِ صِدْقٍ لَسْتُ مُطْلِعَ بَعْضِھِمْ              عَلٰی سِرِّ بَعْضٍ غَیْرَ اَنِّیْ جِمَاعُھا
ترجمہ:

    کتنے ہی مخلص جوان ہیں کہ میں ان کے بعض کوبعض کے رازوں پر مطلع نہیں کرتالیکن میں انہیں جمع کرتاہوں۔

مطلب: 

    مخلص دوست آکر جب اپنے رازبتاتے ہیں تومیں انہیں فاش نہیں کرتا۔ ''انی جماعُہا''سے مرادیہ ہے کہ جب میں ایسا راز دان ہوں تو وہ میرے پاس آتے ہیں بلا خوف وخطر مجھے اپنے احوال سے باخبر کرتے ہیں یامراد یہ ہے کہ ان کا کوئی راز مجھ سے مخفی نہیں ۔
کسی سے  راز نہ کہنا  اگر  دنیامیں رہناہے      یہ دنیا اک  نقارہ ہے تمہیں  بدنام کردے گی

بَشَر  راز  ِ دلی کہکر  ذلیل  و خوار  ہوتاہے       نکل جاتی ہے جب خوشبوتو گل بے کار ہوتاہے
2۔۔۔۔۔۔

        لِکُلِّ امْرِیٍئ شِعْبٌ مِنَ الْقَلْبِ فَارِغٌ              وَمَوْضِعُ نَجْوٰی لا یُرَامُ اِطِّلَاعُہا
ترجمہ:

    ہرشخص کے دل میں ایک خالی جگہ اورجائے سرگوشی ہوتی ہے جس پراطلاع پانے کا قصد نہیں کیا جاسکتا۔
3۔۔۔۔۔۔

         یَظَلُّوْنَ شَتّٰی فِی الْبِلادِ وَسِرُّھُمْ                   اِلٰی صَخْرَۃٍ اَعْیَی الرِّجَالَ انْصِدَاعُہا
ترجمہ:

     وہ(خود اگرچہ)شہروں میں بکھرے ہوئے ہوتے ہیں مگران کے راز ایک ایسی چٹان میں محفوظ ہوتے ہیں جس
Flag Counter