Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
291 - 324
وقال آخر (البسیط)
1۔۔۔۔۔۔

           قد کان قَبْلَکَ اَقْوامٌ فُجِعْتُ بِھم               خَلّٰی لَنا فَقْدُھم سَمْعًا واَبْصارًا
ترجمہ:

    اے متوفی!تجھ سے پہلے مجھے ایک گروہ ِ عظیم کا غم پہنچایاگیاتو ان کی موت نے ہمارے کان اور آنکھیں باقی چھوڑیں ۔

حل لغات:

     فَقْدُھم''''ابو علی احمدمرزقی کے نسخہ میں''ھُلْکُھم''ہے۔
2۔۔۔۔۔۔

        اَنْتَ الَّذِیْ لم تَدَعْ سمعًا ولابصَرًا               اِلَّا شَفًا فَاَمَرَّ الْعَیْشُ اِمْرَارًا
ترجمہ:

    لیکن تونے نہ کان چھوڑے نہ آنکھ مگربرائے نام لہذا زندگی تلخ ہوگئی ۔

مطلب:

    اے متوفی تیری موت ہمارے لئے پہلاحادثہ نہیں بلکہ تجھ سے پہلے دوسرے معززسردار بھی داغِ مفارقت دے گئے مگر قوت سماعت و بصارت باقی تھی لیکن تیری رحلت کے صدمے نے اس نعمت سے بھی محروم کردیا۔

حل لغات:

    اَمَرَّ:الشئ:چیزکوکڑوا کرنا۔عربی مقولہ ہے:اَلْحَقُّ مُرٌّ:حق کڑوا ہوتا ہے۔
وقال الشَّمَرْدَلُ بنُ شَرِیْکٍ اَوْ نَھْشَلُ بنُ حَرِّیٍ (الطویل)
شاعر کاتعارف:

    شاعر کانام:نہشل بن حری ہے ،یاشمردل بن شریک ہے (80ھ/700ء)یہ بنو ثعلبہ بن یربوع سے ہیں اور یہ اموی دور کے اسلامی شاعر ہیں ۔ اپنے بھائی وائل کامرثیہ کہتے ہوئے یہ اشعار کہے۔
1۔۔۔۔۔۔

        بِنَفْسِیْ خَلِیْلَایَ اللَّذانِ تَبَرَّضَا             دُمُوْعِیَ حَتَّی اَسْرَعَ الْحُزْنُ فِیْ عَقْلِیْ
Flag Counter