ترجمہ:
لیکن تونے نہ کان چھوڑے نہ آنکھ مگربرائے نام لہذا زندگی تلخ ہوگئی ۔
مطلب:
اے متوفی تیری موت ہمارے لئے پہلاحادثہ نہیں بلکہ تجھ سے پہلے دوسرے معززسردار بھی داغِ مفارقت دے گئے مگر قوت سماعت و بصارت باقی تھی لیکن تیری رحلت کے صدمے نے اس نعمت سے بھی محروم کردیا۔
حل لغات:
اَمَرَّ:الشئ:چیزکوکڑوا کرنا۔عربی مقولہ ہے:اَلْحَقُّ مُرٌّ:حق کڑوا ہوتا ہے۔
وقال الشَّمَرْدَلُ بنُ شَرِیْکٍ اَوْ نَھْشَلُ بنُ حَرِّیٍ (الطویل)
شاعر کاتعارف:
شاعر کانام:نہشل بن حری ہے ،یاشمردل بن شریک ہے (80ھ/700ء)یہ بنو ثعلبہ بن یربوع سے ہیں اور یہ اموی دور کے اسلامی شاعر ہیں ۔ اپنے بھائی وائل کامرثیہ کہتے ہوئے یہ اشعار کہے۔
1۔۔۔۔۔۔
بِنَفْسِیْ خَلِیْلَایَ اللَّذانِ تَبَرَّضَا دُمُوْعِیَ حَتَّی اَسْرَعَ الْحُزْنُ فِیْ عَقْلِیْ