| دِيوانِ حماسه |
حلیف قوم بنواسد کی بھی یہی عادت بن گئی ہے لہذا میں انتقام لوں گا۔سچ ہے :صحبت سے رنگ نہیں بدلتا لیکن عادت ضرور بدلتی ہے۔
حل لغات:
رِیٌّ:خوش منظر ۔خِضَابٌ:رنگ۔رنگ کرنے کی جگہ۔وقال آخر (الطویل)
1۔۔۔۔۔۔
نُعِیَ لِیَ اَبُوالْمِقْدامِ فَاسْوَدَّ مَنْظَرِیْ مِنَ الْاَرْضِ وَاسْتَکَّتْ عَلَیَّ الْمَسَامِع،ترجمہ:
مجھے ابومقدام کی موت کی خبر دی گئی تو مجھے دکھائی دینے والی زمین سیاہ ہوگئی اور میرے کان بہرے ہوگئے ۔
مطلب:
ابومقدام کی موت کی خبر کے بعد مجھے ہرطرف سیاہی نظر آنے لگی، میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور یہ خبر اتنی سخت تھی کہ اس سے کانوں کے پردے پھٹ گئے اب میں کچھ نہیں سن سکتا۔
حل لغات:
اِسْتَکَّتْ:(افتعال)اِسْتَکَّ:بندہونا۔2۔۔۔۔۔۔
واَقْبَلَ ماءُ العینِ مِنْ کُلِّ زَفْرَۃٍ اِذَا وَرَدَتْ لم تَسْتَطِعْھا الْاَضالِع،ترجمہ:
ہرلمبی سانس کے سبب آنسو بہنے لگاجب وہ نکلتاہے تو پسلیاں اسے برداشت نہیں کرسکتیں۔
مطلب:
شدت غم کی وجہ سے ٹھنڈی سانس(آہ)نکلتی ہے اور اس کااثر پسلیوں پر پڑتاہے توممدوح کے غم کی وجہ سے ایسی آہِ سرد دل ِ پردرد سے نکلتی ہے کہ قوتِ برداشت جواب دے جاتی ہے اور بے اختیارآنکھوں سے سیل اشک رواں ہوجاتا ہے ۔
حل لغات:
زَفْرَۃٌ:لمبی سانس ۔گرم سانس ۔