وہ اسم جو شئ اور اس کے مشابہ اشیاء پر دلالت کرنے کیلئے وضع کیاگیاہو جیسے:رَجُلٌ کیونکہ اس کااطلاق بغیر تعیین کے ہر فرد خارج پر علی سبیل البدلیت ہوتا ہے ۔
جنس اور اسم جنس میں فرق :
جنس کااطلاق قلیل و کثیر پر ہو تاہے ۔جیسے :اَلْمَاءکیونکہ اس کااطلاق پانی کے ایک قطر ہ پر بھی ہوتاہے اور سمندر پر بھی جبکہ اسم جنس کااطلاق فقط واحد پرعلی سبیل البدلیت ہو تاہے۔ جیسے:رَجُلٌ تو اس سے معلوم ہواکہ ان کے مابین نسبت عموم خصوص مطلق کی ہے ۔
(الف)لُوْثَۃٌ:بضم اللام:ڈھیلاپن ،تاخیر،سستی،بے وقوفی ۔
سست، ضعیف اور ڈھیلاآدمی ۔ہم نے شعرکاترجمہ اس کے مطابق کیاہے۔شارح دیوانِ حماسہ ابوعلی احمد مرزوقی لکھتے ہیں:
والرّوایۃُ الصحیحۃُ ھی ضمُ اللامِ من اللُّوثۃِ:لوثۃ
میں صحیح روایت ''لامِ مضموم ''ہے۔
(شرح دیوان الحماسۃ ج1ص23 تالیف ابو علی احمد بن محمد بن الحسین المرزوقی متوفی421ھ دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان)
(ب)لَوْثَۃٌ:بفتح اللام:بے وقوفی ،دیوانگی۔اَللَّوْثُ:طاقت ،برائی۔اس صورت میں شعر کاترجمہ ہوگا۔تب تو میری مددکیلئے بہادروں کی ایک ایسی جماعت کھڑی ہوتی جو واجب ا لحفاظت چیز کی حفاظت کے وقت سخت ہے اگرطاقتور لوگ نرم پڑجائیں ۔یہ تر جمہ زیادہ بلیغ ہے ؛کیو نکہ اس صورت میں شاعرکے ممدوح قبیلہ یعنی بنومازن کی زیادہ تعریف ہو تی ہے۔ کہ وہ ایسے سخت حالات میں کہ جہاں طاقتور لوگ بھی نر م پڑ جاتے ہیں وہا ں بھی وہ اپنی عزت و نامو س کی حفا ظت کی خا طر ڈٹ جا تے ہیں ۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
وہ مرد نہیں جو ڈر جا ئے حا لا ت کے خو نی منظر سے
جس حال میں جینا مشکل ہو ا س حال میں جینا لا زم ہے
لَانَ:الشیئُ(ض)لَیْنًا:نرم ہونا،نرم خو ہونا،تابع ہونا،لچکدار ہونا۔ لِقَومِہٖ:اپنے لوگوں سے نرم برتاؤ کرنا،نرمی سے پیش آنا۔
(فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّہِ لِنتَ لَھُمْ)
ترجمہ کنز الایمان:''تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب!تم ان کے لئے نرم دل ہوئے''۔[آل عمران:159] عربی مقولہ ہے:
لَیِّنُ الکَلامِ قَیْدُ الْقُلُوْبِ
:یعنی میٹھے بول دلوں کولوٹ لیتے ہیں۔