Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
288 - 324
وقال ابنُ المُقَفَّعِ (الطویل)
شاعر کا تعارف:

    شاعرکا نام عبداﷲابن مُقَفَّع ہے(متوفی142ھ/759ء)اوریہ اسلامی شاعرہیں،یہ بڑے فصیح وبلیغ اور اچھے کاتب تھے خلیل سے ان کے بارے میں پوچھاگیا تو جواب دیامیں نے ان کی مثل کوئی نہیں دیکھاان کا علم ان کی عقل سے زیادہ تھا ۔

اشعار کا پس منظر:

    شاعرنے عمرو بن علابصری جومشہور قول کے مطابق قراءِ سبعہ میں سے ایک تھے ان کامرثیہ کہتے ہوئے یہ اشعارکہے ہیں اور ایک قول یہ ہے یحی بن زیاد اور ایک قول کے مطابق ابو عوجاء عبد کریم کامرثیہ کہتے ہوئے یہ اشعار کہے ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔

           رُزِیْنا اَبَا عمرٍو وَلَا حَیَّ مِثْلَہٗ                    فَللہِ رَیْبُ الْحادِثاتِ بِمَنْ وَّقَعْ
ترجمہ:

    ہمیں ابوعمرو کی (موت کی)مصیبت پہنچائی گئی اور کوئی زندہ اس کی مثل نہیں اﷲسے ہی حوادث ِزمانہ کی شکایت ہے کہ حوادثِ زمانہ نے کیسے عظیم کو ہلاک کردیا۔
2۔۔۔۔۔۔

         فَاِنْ تَکُ قد فارَقْتَنَا وَتَرَکْتَنَا                  ذَوِیْ خَلَّۃٍ ما فِی انْسِدادٍ لَّھا طَمَعْ
ترجمہ:

    اگر توہمیں داغ مفارقت دے گیااور ہمیں ایسی سخت حاجت میں چھوڑکر چلاگیاکہ جس کے پورے ہونے کی اب کوئی امیدنہیں ۔
3۔۔۔۔۔۔

       فقد جَرَّ نَفْعًا فَقْدُنا لَکَ اَنَّنا                   اَمِنَّا عَلٰی کُلِّ الرَّزَایا مِنَ الْجَزَعْ
ترجمہ:

    تو تیرے جداہونے نے ہمیں ایک نفع ضرور پہنچایاہے وہ یہ کہ ہم تمام مصیبتوں پر بے صبری کرنے سے بے خوف ہوگئے۔

مطلب:

    تیری وفات ہمارے لئے سب سے بڑا صدمہ ہے توجب اسے برداشت کرلیا تو اب اس کے سامنے تمام مصیبتیں ہیچ ہیں۔
Flag Counter