| دِيوانِ حماسه |
منصوب جو''الثوب''کی طرف لوٹ رہی ہے ،سے مراد ''میت''کودیاجانے والا کفن ہے یعنی سب نے اچھی تعریف کی کسی نے کوئی برائی یا عیب بیان نہیں کیااورممدوح کی عزت و تعظیم کبھی پرانی ہو گی نہ ختم ہوگی اگرچہ اس کاکفن بوسیدہ ہوکرختم ہوجائے گا۔
3۔۔۔۔۔۔
دَفَعْنَا بِکَ الْاَیامَ حَتّٰی اِذا اَتَتْ تُرِیْدُکَ لم نَسْطِعْ لھا عَنکَ مَدْفَعَاترجمہ:
ہم نے تیری مددسے حوادث زمانہ کو دور کیالیکن جب انہوں نے تیرا (تیری موت کا)ارادہ کیا تو ہم انہیں روک نہ سکے ۔
فائدہ:
''لم نَسْطِعْ ''ابو علی احمد مرزوقی اوربیروت کے نسخے میں''لم تَسْطِعْ''ہے۔4۔۔۔۔۔۔
مَضٰی فَمَضَتْ عَنِّیْ بہ کُلُّ لَذَّۃٍ تَقَرُّ بھا عَیْنَایَ فَانْقَطَعَا مَعَاترجمہ:
وہ چلاگیاتو اس کی وجہ سے میری ہر وہ لذت جس سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی تھیں چلی گئی یعنی وہ دونوں ایک ساتھ کٹ گئے ۔5۔۔۔۔۔۔
مَضٰی صاحِبِیْ وَاسْتَقْبَلَ الدَّھْرُ مَصْرَعٰی ولا بُدَّ اَنْ اَلْقٰی حِمامِیْ فَاُصْرَعَاترجمہ:
میرادوست چلاگیااور زمانہ میرے مقتل میں سامنے آیااورضروری ہے کہ میں اپنی موت سے کشتی کروں پھر پچھاڑاجاؤں۔
مطلب:
جس شخص کی مددسے سب مصیبتیں ٹالی جاتیں تھیں وہ بھی موت کو نہ ٹال سکاتو اب ضروری ہے کہ میں بھی اپنی جان جان ِ آفریں کے سپرد کردوں؛کیونکہ موت سے بچنا کسی کے بس کی بات نہیں۔
حل لغات:
مَصْرَعٌ:پچھاڑنے کی جگہ ،کشتی کا اکھاڑا۔دنگل،کشتی گاہ۔ موت، ہلاکت ، قتل وخون۔ج:مَصَارِعُ۔ عربی مقولہ ہے:''مَنْ صَارَعَ الْحَقَّ صَرَعَہ،'':
جو حق سے کشتی لڑیگا ،حق اس کو پچھاڑدے گا۔