Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
286 - 324
کا احساس بھی ختم ہوگیاہے۔
6۔۔۔۔۔۔

        کأَنْ لَّمْ یَمُتْ حَیٌّ سِوَاکَ ولم تَقُمْ                   عَلٰی اَحَدٍ اِلَّا عَلَیْکَ النَّوَائِح،
ترجمہ:

    گویا کہ تیرے علاوہ کوئی زندہ مراہی نہیں اورنہ تیرے علاوہ کسی پر نوحہ کرنے والی عورتیں کھڑی ہوئیں۔
7۔۔۔۔۔۔

        لَئِنْ حَسُنَتْ فِیْکَ الْمَرَاثِیْ وَذِکْرُھا                 لقدحَسُنَتْ مِنْ قَبْلُ فِیْکَ الْمَدَائِح،
ترجمہ:

    اب اگر تیرا مرثیہ اور اس کا ذکر اچھا لگتاہے تو یقینا اس سے پہلے تیری تعریفیں اچھی لگتی تھیں۔
وقال یحیی بن زیاد الحارثی (الطویل)
شاعر کا تعارف:

    شاعرکانام ابوالفضل یحی بن زیاد حارثی ہے اوریہ اسلامی شاعر ہیں اور یہ ابو العباس سفاح کے ماموں کے بیٹے ہیں (160ھ /776ء )میں فوت ہوئے۔
(شرح مرزوقی ج1ص610)
1۔۔۔۔۔۔

          نَعٰی ناعِیَا عَمْرٍو بِلَیْلٍ فَاَسْمَعا                   فَرَاعَا فُؤَادًا لا یَزالُ مُرَوَّعَا
ترجمہ:

     دوشخصوں نے رات کے وقت عمرو کی موت کی خبرسناکر میرے اس دل کو(مزید)خوف زدہ کردیا جوپہلے سے ہی خوف زدہ رہتاتھا ۔
2۔۔۔۔۔۔

         وما دَنِسَ الثَّوْبُ الَّذِیْ زَوَّدُوْکَہ،                   وَاِنْ خانَہ، رَیْبُ الْبِلٰی فَتَقَطَّعَا
ترجمہ:

    اورجو کفن لوگوں نے تجھے پہنایا میلانہیں تھا اگرچہ بوسیدگی کی تاثیر نے کفن سے خیانت کی تووہ پارہ پارہ ہوگیا۔

مطلب:

    شیخ ا لادبا ء نے کہا اس شعر میں شاعر نے صنعتِ استخدام سے کام لیا ہے کیونکہ
ومادَنِسَ الثَّوْبُ''
میں ثوب سے مراد لوگوں کی تعریفیں اور شعراء کے وہ قصائد ہیں جوانہوں نے ممدوح کی تعریف میں کہے اور''وَاِنْ خانَہ، '' کی ضمیر
Flag Counter