ترجمہ:
اب اگر تیرا مرثیہ اور اس کا ذکر اچھا لگتاہے تو یقینا اس سے پہلے تیری تعریفیں اچھی لگتی تھیں۔
وقال یحیی بن زیاد الحارثی (الطویل)
شاعر کا تعارف:
شاعرکانام ابوالفضل یحی بن زیاد حارثی ہے اوریہ اسلامی شاعر ہیں اور یہ ابو العباس سفاح کے ماموں کے بیٹے ہیں (160ھ /776ء )میں فوت ہوئے۔
1۔۔۔۔۔۔
نَعٰی ناعِیَا عَمْرٍو بِلَیْلٍ فَاَسْمَعا فَرَاعَا فُؤَادًا لا یَزالُ مُرَوَّعَا
ترجمہ:
دوشخصوں نے رات کے وقت عمرو کی موت کی خبرسناکر میرے اس دل کو(مزید)خوف زدہ کردیا جوپہلے سے ہی خوف زدہ رہتاتھا ۔
2۔۔۔۔۔۔
وما دَنِسَ الثَّوْبُ الَّذِیْ زَوَّدُوْکَہ، وَاِنْ خانَہ، رَیْبُ الْبِلٰی فَتَقَطَّعَا
ترجمہ:
اورجو کفن لوگوں نے تجھے پہنایا میلانہیں تھا اگرچہ بوسیدگی کی تاثیر نے کفن سے خیانت کی تووہ پارہ پارہ ہوگیا۔
مطلب:
شیخ ا لادبا ء نے کہا اس شعر میں شاعر نے صنعتِ استخدام سے کام لیا ہے کیونکہ
میں ثوب سے مراد لوگوں کی تعریفیں اور شعراء کے وہ قصائد ہیں جوانہوں نے ممدوح کی تعریف میں کہے اور''وَاِنْ خانَہ، '' کی ضمیر