ترجمہ:
یہ انصاف نہیں ہے کہ تو ایسے جوان پر کنجوسی کرے جو کنجوس نہیں تھا۔
وقال اَشْجَعُ بْنُ عمرٍ واَلسُّلَمِیُّ (الطویل)
شاعر کا تعارف :
شاعر کانام ا شجع بن عمر وہے اوریہ اسلامی شاعر ہیں۔یہ شاعر یمامہ میں پیداہوئے اور بصرہ میں پرورش پائی پھر بغداد میں رہائش اختیار کی اور وہیں فوت ہوئے (195ھ/811ء)۔
1۔۔۔۔۔۔
مَضَی ابْنُ سَعِیْدٍ حَیْنَ لم یَبْقَ مَشْرِقٌ ولا مَغرِبٌ اِلَّا لَہٗ فِیْہِ مادِح،
ترجمہ:
ابن سعید اس وقت فوت ہوا جب مشرق ومغرب کے کونے کونے میں اس کی تعریف کرنے والا موجو د تھا۔
2۔۔۔۔۔۔
وماکنتُ اَدْرِیْ ما فواضِلُ کَفِّہٖ عَلَی النَّاسِ حتّی غَیَّبَتْہُ الصَّفائِح،
ترجمہ:
مجھے معلوم نہیں تھاکہ لوگوں پر اس کی کس قدر سخاوت تھی یہاں تک کہ پتھر کی سِلوں نے اسے چھپا لیا ۔
مطلب:
اس کے احسانات،نوازشیں اور مہربانیاں لوگوں پرکس قدرتھیں جب تک وہ زندہ رہامجھے معلوم نہ ہوسکیں؛کیونکہ وہ