| دِيوانِ حماسه |
3۔۔۔۔۔۔
اُولٰئکَ اِخْوانُ الصَّفاءِ رُزِیْتُھم ومَا الْکَفُّ اِلَّا اِصْبَعٌ ثُمَّ اِصْبَع،ترجمہ:
وہ عمدہ اورطاقتور بھائی تھے جن کی وجہ سے مجھے مصیبت پہنچائی گئی اورہتھیلی نہیں مگر ایک انگلی پھر دوسری انگلی سے۔
مطلب:
انگلیوں کے بغیرہتھیلی کام کی نہیں،وہ انگلیوں کی طرح تھے ان کے جانے سے میں اس طرح بے یارومددگار ہوگیاجیسے انگلیوں کے بغیرہتھیلی۔4۔۔۔۔۔۔
لَعَمْرُکَ اِنِّی بِالْخلیلِ الَّذِیْ لَہٗ عَلَیَّ دَلَالٌ وَاجِبٌ لَمُفَجَّع،ترجمہ:
میری زندگی کی قسم مجھے اپنے ایسے دوست کا غم پہنچایاگیاجس کیلئے مجھ پر ناز کرناواجب تھا۔
حل لغات:
دَلالٌ:ناز ونخرہ۔وقار۔5۔۔۔۔۔۔
واِنِّی بِالْمَوْلَی الَّذِیْ لیسَ نافِعِیْ ولاضائِرِیْ فُقْدَانُہ، لَمُمَتَّع،ترجمہ:
اور بے شک میں نفع پہنچایا جارہاہوں چچاکے ایسے بیٹے سے جو نہ میرے لئے نفع مند ہے اور نہ اس کی موت میرے لئے نقصان دہ ہے۔وقال مُطِیعُ بنُ اِیاسٍ فی یَحیٰی بنِ زِیادٍ (المنسرح)
شاعر کا تعارف:
شاعر کانام مطیع بن ایاس ہے(متوفی166ھ/783ء)اوریہ اموی اور عباسی دور کے مخضرمی شاعر ہیں۔1۔۔۔۔۔۔
یااَھْلِ بَکُّوْا لِقَلْبِیَ الْقَرْحِ وَلِلدُّمُوْعِ السَّوَاکِبِ السُّفُحٖترجمہ:
اے میرے گھر والو!میرے زخمی دل اوربہت بہنے والے آنسوکے لئے رؤو۔