ترجمہ:
اگر غم نہ ہوتاتو میں لوگوں میں ایک لمحہ بھی زندہ نہ رہ سکتالیکن جب میں پوچھتاہوں تو مجھ جیسا غمگین مجھے جواب دیتاہے ۔
مطلب:
اگردنیامیں میں اکیلاہی غمگین ہوتاپھر تو جینامشکل ہوجاتالیکن جب بھی میں کسی سے اظہار غم کرتاہوں تو وہ بھی اپنا دکھڑاسناتاہے یعنی کوئی بھی غم سے خالی نہیں۔
قال أبوحِبالٍ اَلبَّراءُ بْنُ رِبْعِیُّ اَلْفَقْعَسِیُّ (الطویل)
ابوہلال نے کہا:اصل نسخے میں ابو حبال ہی ہے لیکن یہ غلطی ہے اور صحیح نام ''ابو حناک '' ہے۔
(حاشیہ شرح مرزوقی ج1ص601 بیروت)
1۔۔۔۔۔۔
اَبَعْدَ بَنِی اُمِّی الَّذِیْنَ تَتَابَعُوْا اُرَجِّی الْحَیٰوۃَ اَمْ مِنَ الْموتِ اَجْزَع،
ترجمہ:
کیا؟اپنے ان بھائیوں کے بعد جو یکے بعد دیگرے رخصت ہوگئے لذت زندگی کی امیدرکھوں یا موت سے گھبراؤں۔
2۔۔۔۔۔۔
ثَمانِیَۃٌ کانوا ذُؤَابَۃَ قومِھم بِھِمْ کنتُ أُعْطِیْ ما أشاءُ وأَمْنَع،
ترجمہ:
وہ آٹھ اپنی قوم کے سردار تھے ا ن کی وجہ سے ہی میں جوچاہتاوو دیتااورچاہتاتونہ دیتا۔
مطلب:
وہ میری شان وشوکت تھے اورمیں ان میں سب سے زیادہ معزز تھامجھے ان کے معاملات میں اختیارحاصل تھا میں