ترجمہ کنز الایمان:''اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کی بندگی کرنے کھڑا ہوا''۔ چلتے ہوئے رک جانا۔اَلامْرُ:اعتدال پر آنا،متوازن ہونا، سدھرنا، درست ہونا۔اَلحَقُّ:حق واضح اور ثابت ہونا۔ اَلمَتَاعُ بِکَذا:سامان کی کوئی قیمت متعین ہوجانا ۔
ھٰذَالشیءُ قامَ بِثَمَنِ کَذَا:
یہ اتنی قیمت میں پڑا۔اَلاَمْرُ:کوئی سلسلہ قائم ہونا، وجود میں آنا، ہونا۔
قَامَتِ الصَّلٰوۃُ:
نماز شروع ہونا،نماز کا وقت ہوجانا،نماز کے لئے جماعت کا کھڑا ہوجانا ۔الحَرَکَۃُ:تحریک چلنا،شروع ہونا۔
اَلمُبَارَاۃُ فی کَذا:
میچ ہونا،کھیل وغیرہ کا مقابلہ ہونا۔اَلسَّاعَۃُ:قیامت آنا ۔
ترجمہ کنز الایمان:''اور اس کے ساتھ ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے''۔[البقرۃ:214] وَمِنْہُ:کسی سے نجات دلانا۔عربی مقولہ ہے:
اِذَانُصِرَ الرَّاْیُ بَطَلَ الْھَوٰی:
جب عقل کی امداد ہوتی ہے تو خواہش نفس ختم ہوجاتی ہے۔
نُصْرَۃُ الْحَقِ شَرَفٌ:
حق کی مددکرناشرافت و بزرگی ہے ۔ مَعْشَرٌ:(اس لفظ سے اس کاواحد نہیں)جماعت ۔خلیل نے کہا:ایک طرز کے لوگ، جماعت جس کے مشاغل واحوال ایک جیسے ہوں جیسے:
مَعْشَرُ الطُّلَّابِ۔ج:مَعَاشِر۔
(یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنۡسِ)
ترجمہ کنز الایمان:''اے جن وانسان کے گروہ''۔[الرحمن:33]
خُشُنٌ :مف:خَشِنٌ واَخْشَنُ۔
کھردرا اورٹھوس ہونا۔یہاں مراد ہے طاقتوربہادر ۔عِنْدَ:اسم ظرف: موجود ، نزدیک۔
ترجمہ کنزالایمان:''یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بیشک میں حفاظت والا علم والاہوں''۔[یوسف:55] عربی مقو لہ ہے :
حَافِظْ عَلَی الصَّدِیْقِ وَلَو فِی الْحَرِیقِ:
دو ست کی حفاظت کر خواہ آگ میں کود کر ہی ہو ۔
ذُوْ:یہ لفیف مقرون ہے یہ اصل میں "ذَوَوٌ''تھا پھر تخفیفاً ایک واو کو حذف کردیا اور یہ فقط اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتاہے ؛کیونکہ اس کا خاصہ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ اسماء اجناس کی طرف مضاف ہو تاہے اور اسماء اجناس اسماء ظاہرہ ہی ہوتے