Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
279 - 324
3۔۔۔۔۔۔

         أَ ذُؤَابُ اِنِّی لم اَھَبْکَ ولم اَقُمْ                         لِلْبَیْعِ عندَ تَحَضُّرِ اَجْلابٖ
ترجمہ:

    اے''ذؤاب''!میں نے تیراخون معاف نہیں کیااورنہ ہی دیت کامال لے کراسے بیچنے کیلئے تیار ہواہوں جب تاجرآئیں ۔
4۔۔۔۔۔۔

           اِنْ یَّقْتُلُوْکَ فقد ثَلَلْتَ عُرُوْشَھم                بِعُتَیْبَۃَ بْنِ الْحارثِ بْنِ شِھابٖ
ترجمہ:

    اگر تجھے بنو یربوع نے قتل کیاتواس کی وجہ یہ ہے کہ تونے عتیبہ بن حارث بن شہاب کوقتل کرکے ان کی عزت کو خاک میں ملادیا ۔
5۔۔۔۔۔۔

          بِاَشَدِّھم کَلَبًا عَلٰی اَعْدَائِھم                    واَعَزِّھم فَقْدًا عَلَی الْاَصْحابٖ
ترجمہ:

    ایسے شخص کو قتل کرکے جوان کے دشمنوں پر سب سے زیادہ سخت تھاان کی عزت کوخاک میں ملادیااور اس کا گم ہونااس کے دوستوں پرسب سے زیادہ گراں تھا۔

حل لغات:

     کَلَبٌ:کتے کی دیوانگی ۔شرارت۔ کہتے ہیں:
''دَفَعْتُ عَنْکَ کَلَبَ فُلانٍ'':
میں نے تم سے فلاں کا شر دور کردیا ۔سردی کی شدت۔
وقال الحُرَیْثُ بْنُ زَیْدٍ اَلْخَیْلُ (الطویل)
شاعر کا تعارف:

    شاعر کانام حریث بن زید خیل ہے اوریہ مخضرمی شاعر ہیں،یہ شا عر اور ان کے بھائی منکف رسول اکرم شاہ بنی آدم (فداہ روحی وجسد ی)صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اورنعمتِ اسلام سے سرفراز ہوئے ، خالدبن ولید کے ساتھ مرتدوں سے جہاد کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرکے واصل ِ جنت ہوئے (60ھ/680ء)۔
Flag Counter