Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
276 - 324
مطلب:

    ماموں کے قتل کے بعد قسم کھائی تھی کہ جب تک انتقام نہیں لوں گا اس وقت تک شراب نہیں پیوں گاتو جوشراب قسم کی وجہ سے حرام ہوگئی تھی اب قسم پوری ہوچکی لہذا شراب حلال ہوگئی۔
24۔۔۔۔۔۔

         فَاسْقِنِیْھا یَا سَوَادَ بْنَ عمْرٍو                         اِنَّ جِسْمِیْ بعدَ خالِیْ لَخَلُّ
ترجمہ:

    اے سوادبن عمرو!مجھے شراب پلا؛کیونکہ ماموں کے بعدمیراجسم کمزورہوگیاہے۔
            لاپھر اک بار وہی بادہ وجام اے ساقی

            ہاتھ آجائے مجھے میرا مقام اے ساقی
25۔۔۔۔۔۔

          تَضْحَکُ الضَّبْعُ لِقَتْلٰی ھُذَیْلٍ                       وَتَرَی الذِّئْبَ لَھا یَسْتَھِلُّ
ترجمہ:

    بنوہذیل کے مقتولین پربجوہنس رہے ہیں اورتوبھیڑیے کوچلاّتاہوادیکھ رہاہے۔

مطلب:

    دشمن کے لاشوں کی اتنی کثرت ہے کہ پرندوں اوردرندوں کی عید ہوگئی ہے اورخوشی کے مارے ہنس رہے ہیں اور چلاّ رہے ہیں۔    

حل لغات:

    اَلضَّبْعُ:لکڑ بھگّا۔بھیڑیے جیسا ایک خونخوا رجانور۔بجو۔ ج:
اَضْبُعٌ۔ یَسْتَھِل:استَھَلَّ الصَّبِیُّ:
بچے کا ولادت کے وقت رونااور آوازنکالنا۔
26۔۔۔۔۔۔

           وعِتاقُ الطیرِ تَغْدُوْ بِطانًا                     تَتَخَطَّاھم فما تَسْتَقِلُّ
ترجمہ:

    اوربڑے پرندے صبح کوسیرہوکر کھاتے ہیں اِن پرپاؤں رکھ کر چلتے ہیں اڑ نہیں سکتے۔
مطلب:

    دشمن کے لاشوں کی اتنی کثرت ہے کہ بڑے بڑے پرندے صبح خالی پیٹ آتے ہیں اوراتنا پیٹ بھر کرکھاتے ہیں کہ کثرت خوری کی وجہ سے اڑنہیں سکتے۔
Flag Counter