Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
274 - 324
وہ سونتی جائے تواس کی چمک بجلی جیسی ہے۔
16۔۔۔۔۔۔

        فَاَدْرَکْنَا الثَّأْرَ منھم ولَمّا                           یَنْجُ مِلْحَیَّیْنِ اِلَّا الْاَقَلُّ
ترجمہ:

    ہم نے ان سے انتقام لے لیااوردونوں قبیلوں سے تھوڑے ہی زندہ بچے ۔

حل لغات:

    مِلْحَیَّیْنِ:ہمارے ہاں دیوانِ حماسہ کے جو نسخے ہیں ان میں''ملحیّین ''منفصل لکھاہواہے جب کہ بیروت کے نسخے اور شرح مرزوقی کے حاشیے میں متصل لکھاہوا ہے، اسی کے مطابق شعرمیں متصل لکھا گیاہے ۔''مِلْ'' ''مِنْ''کے معنی میں ہے ۔
17۔۔۔۔۔۔

       فَاحْتَسَوْا اَنْفاسَ نومٍ فلمّا                        ھَوَّمُوْا رُعْتُھُمْ فَاشْمَعَلُّوا
ترجمہ:

    ان تھوڑے لوگوں نے نیندکے گھونٹ پئے جب انہوں نے اونگھ میں سرہلائے تو میں نے انہیں ڈرایاتوتیز چلنے لگے ۔

حل لغات:

    ھَوَّمُوْا:(تفعیل)ھَوَّمَ:اونگھنا،تھوڑا سونا۔''ھَوَّمُوْا''ابو علی احمد مرزوقی کے نسخے میں ''ثَمِلُوا''ہے۔رُعْتُ:ہمارے ہاں دیوانِ حماسہ کے جو نسخے ہیں ان میں اور ابو علی احمد مرزوقی کے نسخے میں یہ واحد حاضرکا صیغہ ہے جب کہ بیروت کے نسخے میں واحد متکلم کاصیغہ ہے اورشعر کاترجمہ اسی کے مطابق کیاگیاہے۔
اِشْمَعَلُّوا:اِشْمَعَلَّ الرَّجُلُ:
بلند وعالی رتبہ ہونا ۔ جھومنا،تھرکنا۔
18۔۔۔۔۔۔

             فَلَئِنْ فَلَّتْ ھُذَیْلٌ شَباہُ                      لَبِمَا کانَ ھُذیلاً یَفُلُّ
ترجمہ:

    بخدا!اگربنوہذیل نے اس کی دھارکوکندکردیاتواس وجہ سے کہ وہ ہذیل کو کندکیاکرتاتھا۔
19۔۔۔۔۔۔

           وبِما اَبْرَکَھَا فی مُناخٍ                       جَعْجَعٍ یَنْقَبُ فِیہ الْاظَلّ
ترجمہ:

    اوراس وجہ سے بھی کہ وہ بنوہذیل کوایسی سخت جگہ میں بٹھاتاتھاجس میں پاؤں پھٹ جاتے ہیں۔
Flag Counter