Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
271 - 324
ج:اَفَاعٍ۔ یَنْفُثُ:نَفَثَ البُصَاقَ مِن فیہ(ن، ض)نَفْثًا:منہ
سے تھوک پھینکنا۔صِلٌّ: ایک موذی سانپ ۔ ج :اَصْلَالٌ۔
5۔۔۔۔۔۔

           خَبَرٌ ما نَابَنا مُصْمَئِلٌّ                          جَلَّ حَتّٰی دَقَّ فیہ الاَجَلُّ
ترجمہ:

    ہمیں ایسی عظیم وشدید خبر ملی کہ بڑی خبر بھی اس کے سامنے حقیرہے۔

حل لغات:

    مُصْمَئِلٌّ:فا۔اِصْمَأَلَّ:سخت ہونا۔المُصْمَئِلُّ:غصے سے پھولنے والا۔
6۔۔۔۔۔۔

           بَزَّنِی الدھرُ وکان غَشُوْمًا                          بِاَبِیٍّ جارُہ، مایُذَلُّ
ترجمہ:

     ظالم زمانے نے مجھے سختی سے پکڑاایسے سخت متکبر جوان سے جس کے پڑوسی کو ذلیل نہیں کیا جاسکتا ۔

حل لغات:
     بَز:بَزَّ قَرِینَہُ(ن)بَزًّا:
غالب آنا۔چھیننا۔من عَزَّ بَزَّ:جو غالب آئے گا چھینی ہوئی چیز لے لے گا۔ غَشُوْمًا:صفت ۔ غَشَمَ الرَّجُل(ن)غَشْمًا:بے سوچے کام کرنا ۔ ظلم ڈھانا۔
7۔۔۔۔۔۔

             شَامِسٌ فِی الْقُرِّ حتی اذا ما                ذَکَتِ الشِّعْرٰی فَبَرْدٌ وَظِلُّ
ترجمہ:

    وہ سردی میں دھوپ دیتاہے یہاں تک کہ جب شِعْرٰی ستارہ طلوع ہوتاہے توٹھنڈا اور سایہ دارہوتا ہے۔

مطلب:

    اس شعر میں ممدوح کی تین صفات بیان کی گئی ہیں ۔یہ تینوں صفات مشبہ اور ممدوح مشبہ بہ اور وجہ تشبیہ منفعت ہے۔ یعنی وہ انتہائی نفع بخش ہے کہ جس طرح سردیوں میں دھوپ سے اور سخت گرمی میں ٹھنڈے پانی اور ٹھنڈے سائے سے راحت ملتی ہے اسی طرح ممدوح سے بھی راحت ملتی ہے۔ 

حل لغات:

     شَامِسٌ:فا۔دھوپ دینے والا۔اَلْقُرُّ:ٹھنڈک۔لیلۃٌ قُرَّۃٌ:ٹھنڈی رات ۔
ذَکَت:ذَکَتِ النَّارُ(ن) ذُکُوًّا:
آگ جلنا،بھڑکنا،تیز ہونا۔اَلشِّعْرٰی:سخت گرمی میں طلوع ہونے والاایک ستارہ ۔
فی القران
Flag Counter